کراچی: سندھ اسمبلی کا اجلاس 11 ستمبر کو اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیرِ صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں مختلف ارکان نے امن و امان، بجلی، پانی، مہنگائی، ٹریفک اور بلدیاتی مسائل سمیت متعدد معاملات ایوان میں اٹھائے، جبکہ مختلف بلز اور اہم قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔
اجلاس کے آغاز پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر ان کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ قائداعظم نے ہمیں پاکستان دیا، تاہم آج ہم تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قوم کو بانیٔ پاکستان کے قول پر چلتے ہوئے متحد ہو کر پاکستان کو مضبوط بنانا ہوگا۔ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کے دوران شہید ہونے والے مہاجرین اور ٹینکر حادثے میں جاں بحق ہونے والے بزرگ کے لیے بھی فاتحہ خوانی کی گئی۔
بجلی کا بحران، سندھ بھر میں شکایات
سجاد علی نے ایوان میں بجلی کی عدم دستیابی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلے بجلی فراہم کی جائے، پھر صوبوں کی بات کی جائے۔ اسپیکر اویس قادر شاہ نے کہا کہ بجلی کا مسئلہ پورے سندھ کا ہے اور بجلی کی کمپنیاں سندھ کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہیں۔ انہوں نے شرجیل انعام میمن کو یہ معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانے کی ہدایت کی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بجلی کا مسئلہ بہت بڑا ہے اور تاجر و صنعت کار بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو سروس فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور پاور کمپنیوں کے پاس مناسب میکنزم موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ رہا ہے وہاں بھی بجلی دستیاب نہیں اور سندھ میں 20،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔
منگھو پیر میں قتل اور پولیس کی کارکردگی پر سوال
محمد نصیر نے منگھو پیر میں نوجوان کے قتل کا معاملہ ایوان میں اٹھایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض پولیس اسٹیشنز میں وردی میں ڈکیت بیٹھے ہیں اور پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ
ہیئر سوہو نے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں اور گزشتہ چار روز میں قیمت میں 14 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔
لاڑکانہ کے ٹاؤنز اور یو سیز کے مسائل
جمیل سومرو نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے لاڑکانہ میں ایک یوسی کو 21 لاکھ روپے گریجویٹی کی مد میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ یوسی کے پاس اتنی رقم موجود نہیں ہوتی۔ انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ میں چار ٹاؤنز قائم کیے گئے ہیں لیکن ان ٹاؤنز کے پاس اپنے دفاتر تک موجود نہیں۔
سڑکوں پر ایل ای ڈی لائٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان
فوزیہ حمید نے گاڑیوں میں استعمال ہونے والی تیز روشنی والی ایل ای ڈی لائٹس کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان لائٹس کے باعث حادثات پیش آتے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے معاملے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پورے سندھ کی شاہراہوں پر بیم لائٹس استعمال کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پورے سندھ میں ایسی لائٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
کراچی میں پانی کی قلت کا معاملہ
ایم کیو ایم کی مسرت جبین نے کہا کہ جن علاقوں کو 12 گھنٹے پانی ملنا چاہیے وہاں بھی پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے ایم ڈی واٹر بورڈ کے ساتھ میٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔
قاسم سراج سومرو نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ مسرت جبین سے رابطہ کریں۔
کراچی میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات
عامر صدیقی نے تحریکِ التوا کے ذریعے کراچی میں کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کا معاملہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے درست جواب نہیں دیا جا رہا اور یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کا حل نکالنا ضروری ہے۔
وزیر داخلہ کی یقین دہانی پر تحریکِ التوا پیش نہیں کی گئی۔
کورنگی کازوے منصوبہ
وقفۂ سوالات کے دوران قاسم سراج سومرو نے بتایا کہ کورنگی کازوے کا منصوبہ جنوری 2026 میں مکمل ہوا۔ ان کے مطابق منصوبہ 6 ارب 13 کروڑ 51 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا، جبکہ ستونوں میں اضافے کے باعث منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ متعدد منصوبوں کی بولی میں چینی کمپنیاں بھی حصہ لیتی ہیں، تاہم حکومت کی ترجیح ہوتی ہے کہ ٹھیکہ مقامی کمپنی کو دیا جائے۔
حب ڈیم کی صفائی اور کے فور منصوبہ
قاسم سراج سومرو نے بتایا کہ حب ڈیم کو مختلف اوقات میں صاف کیا جاتا ہے اور کراچی واٹر کارپوریشن صفائی کا کام انجام دیتا ہے۔
انہوں نے کے فور منصوبے کی تکمیل 2027 میں ہونے کی بات بھی ایوان کو بتائی۔
سندھ اسمبلی میں اہم بلز منظور
اجلاس کے دوران کراچی میں فاطمیہ یونیورسٹی کے قیام کا بل وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے ایوان میں پیش کیا، جسے سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
اس کے علاوہ اقرا یونیورسٹی کے قانون میں ترمیم کا بل بھی پیش کیا گیا، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔
بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ ڈیولپمنٹ بورڈ کے ترمیمی بل کو بھی سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
رینجرز کی تعیناتی میں ایک سال کی توسیع
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو سونپے گئے فرائض کی صوبائی اسمبلی سے توثیق کی قرارداد بھی پیش کی گئی۔
صوبائی وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار نے قرارداد پیش کی، جس کے بعد سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی اور اختیارات میں مزید ایک سال کی توسیع کی قرارداد منظور کرلی۔
قرارداد کے تحت سندھ میں رینجرز کی تعیناتی 20 جولائی 2026 سے 19 جولائی 2027 تک جاری رہے گی۔ قرارداد کے متن میں امن و امان، ٹارگٹ کلنگ، اسٹریٹ کرائم، کالعدم تنظیموں اور مفرور ملزمان سے متعلق سکیورٹی خدشات کا ذکر کرتے ہوئے رینجرز کی موجودگی کو ضروری قرار دیا گیا۔




