کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 11 ستمبر کو مزارِ قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبوں کے وسائل، این ایف سی ایوارڈ، سندھ کی تقسیم، آئینی ترامیم، ملکی نظام، پیپلز پارٹی کی عوامی حمایت اور منشیات کے خلاف اقدامات سمیت مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کے وسائل اپنے پاس منتقل کرنے یا این ایف سی کے حوالے سے ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔ بجٹ سے قبل وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے ایم او یو پر دستخط کیے تھے، جس میں واضح طور پر درج ہے کہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ جاری رہے گا۔
سندھ کی تقسیم پر دوٹوک مؤقف
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبوں کی سرحدوں میں تبدیلی صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے۔ اگر صوبوں کی سرحدیں تبدیل کرنی ہوں تو قومی اسمبلی سے آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد بھی صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی پہلے ہی سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے اور خدانخواستہ قومی اسمبلی سے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے کوئی قرارداد منظور بھی ہو جائے تو سندھ اسمبلی اپنا فیصلہ پہلے ہی سنا چکی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وہ کسی دوسرے صوبے کے بارے میں بات کرنے کے مجاز نہیں، لیکن سندھ کے لوگوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
’’سسٹم کولاپس‘‘ پر صنعتکاروں کی تالیاں
ملکی نظام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بزنس فورمز میں اس طرح کی باتوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ کہا گیا کہ پاکستان کا سسٹم کولاپس ہوچکا ہے تو وہاں موجود لوگوں نے تالیاں بجائیں، جبکہ وہ سب بڑے صنعتکار تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صنعتکاروں کی جانب سے ملک کا سسٹم کولاپس ہونے کی بات پر تالیاں بجانا حیرت کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت سے مسائل ہیں، غربت ہے، اسکولوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل ہیں، اور ان مسائل کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پیپلز پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہے
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں گزشتہ 20 سال سے مستحکم حکومت چل رہی ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے عوام نے 2008، 2013، 2018 اور 2026 میں چار مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کو منتخب کیا اور ہر مرتبہ پارٹی کو پہلے سے زیادہ ووٹ ملے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر عوام کا اعتماد ہے اور حکومت کے لیے صوبے کے عوام کی رائے اہمیت رکھتی ہے۔
منشیات کے خلاف کارروائی جاری ہے
وزیراعلیٰ سندھ نے منشیات کے خلاف حکومتی مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ڈرگ کا خاتمہ حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پولیس، ایکسائز اور نارکوٹکس سمیت تمام متعلقہ ادارے منشیات کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح صوبے اور شہروں کو بہتر بنانا اور عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔




