کراچی: پریم ساگر سنستھا کراچی کے وفد نے سندھ کے وزیرِ تعلیم و خواندگی سید سردار علی شاہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں سرکاری اسکولوں میں ہندو طلبہ کے لیے سناتن دھرم کی مذہبی درسی کتب کی اشاعت، تقسیم اور مؤثر تدریس سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران جماعت سوم، چہارم اور پنجم کے ہندو طلبہ کے لیے سناتن دھرم کی نصابی کتب کی دستیابی اور ان کے مؤثر نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔
وفد میں وجے بی مرجانی، جیوتی شری مہیشوری، ونود کمار اسرداسانی اور سنتوش بھاٹیا شامل تھے۔ وفد نے سندھ حکومت اور محکمۂ تعلیم کی جانب سے اقلیتی طلبہ کی مذہبی تعلیم کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔
وفد کے ارکان نے کہا کہ سناتن دھرم کی درسی کتب بڑی تعداد میں طلبہ تک پہنچ چکی ہیں اور انہیں طلبہ، والدین، اساتذہ اور ہندو برادری کی جانب سے مثبت ردعمل حاصل ہو رہا ہے۔
ملاقات میں مذہبی نصاب کے مؤثر نفاذ، معیاری مذہبی تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے سمیت مستقبل میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اقلیتی طلبہ کو تعلیمی اور مذہبی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ملاقات کے اختتام پر پریم ساگر سنستھا کے وفد نے صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کو پھولوں کا گلدستہ اور سناتن دھرم کی درسی کتب کا سیٹ پیش کیا۔
دونوں جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی، مساوی تعلیمی مواقع اور آئینِ پاکستان کے تحت اقلیتوں کو حاصل حقوق کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔




