کراچی: میر رضا علی کی موت کے معاملے کی جاری تحقیقات کے دوران عدالتی حکم پر ہفتے کے روز ان کی میت قبر سے نکال کر فرانزک پوسٹ مارٹم کے لیے مختلف نمونے حاصل کرلیے گئے۔

میر رضا علی کی میت طارق روڈ کے سوسائٹی قبرستان سے نکالی گئی، جہاں میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان، اہلِ خانہ، ان کے وکیل جبران ناصر، پولیس افسران اور مجسٹریٹ بھی موجود تھے۔ موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ کے ماہرین نے قبر سے مختلف نمونے حاصل کیے، جبکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھی نمونے لیے گئے۔ مزید تقابلی جانچ کے لیے میر رضا علی کے والدین کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میڈیکل بورڈ میں شامل مختلف ماہرین نے میر رضا علی کے جسم کے الگ الگ حصوں کا طبی معائنہ کیا، جبکہ پولیس سرجن اور شناختی عملے کے متعلقہ حکام بھی کارروائی کے دوران موجود رہے۔

میر رضا علی، جو آئی بی اے سے فارغ التحصیل اور کاروباری شخصیت تھے، 28 جولائی کی شب گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔ انہوں نے اہلِ خانہ کو بتایا تھا کہ وہ چند منٹ میں واپس آجائیں گے، تاہم بعد ازاں ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں جھاڑیوں سے برآمد ہوئی۔

رضا کیس میں مبینہ نئی آڈیو بھی سامنے آگئی:

دوسری جانب میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے دوران ایک مبینہ آڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس کو یہ آڈیو ایک شخص کی جانب سے فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس میں مالی معاملات اور ادائیگیوں سے متعلق گفتگو کا ذکر کیا گیا ہے۔

مبینہ آڈیو میں مالی لین دین کے حوالے سے ادائیگی کا ایک طریقہ کار زیرِ بحث آتا ہے، جس میں ایک، ایک ملین روپے کے تین چیکس دس، دس روز کے وقفے سے دینے کی بات کی گئی ہے۔

پولیس نے میر رضا علی سے مالی معاملات رکھنے والے مختلف افراد سے بھی معلومات حاصل کی ہیں۔ تاہم مبینہ آڈیو کی صداقت اور اس میں کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

میر رضا علی کی قبر کشائی اور فرانزک معائنے کا مقصد ان کی موت سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کرنا اور واقعے کے اصل حقائق تک پہنچنا ہے۔