کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے، تاہم ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، بہتر پالیسی ماحول اور مقامی مہارت کا فروغ ناگزیر ہے۔
مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی اور ایک سنگِ میل کانفرنس ہے، جس میں صنعت، جامعات اور ٹیکنالوجی کے شعبے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کا مقصد عالمی تجربات سے سیکھنا، جدید تحقیق کو فروغ دینا اور مائننگ کے شعبے میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے 2008 میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جدید مائننگ فریم ورک متعارف کرایا، جس کے نتیجے میں تھر کول منصوبہ پاکستان کی توانائی اور معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تھر کے بلاک ون اور بلاک ٹو سے مجموعی طور پر تقریباً 2640 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ مستقبل قریب میں اس صلاحیت کو 3000 میگاواٹ تک بڑھایا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ تھر کے ذخائر سے سالانہ 15 ملین ٹن سے زائد کوئلہ نکالا جا رہا ہے، جس کے باعث پاکستان کو متبادل ایندھن کی مد میں سالانہ 1.5 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تھر میں تقریباً 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا کے بڑے لگنائٹ ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے تھر میں سڑکوں، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنایا، جبکہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے تعلیم، صحت اور صاف پانی کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق تھر فاؤنڈیشن کے تحت 75 سے زائد اسکولوں میں 5 ہزار سے زیادہ بچے زیر تعلیم ہیں، جبکہ اب تک 5 لاکھ سے زائد مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان میں کوئلے، سونے، تانبے اور دیگر معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جنہیں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مقامی ماہرین کی صلاحیتوں کے ذریعے قومی ترقی میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت معدنی وسائل کی ترقی، مقامی افراد کی تربیت اور جدید مائننگ ایکو سسٹم کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔




