سماجی و ماحولیاتی ماہر نصیر میمن نے کہا ہے کہ یہ تصور درست نہیں کہ بڑے صوبوں کی وجہ سے عوام کو اپنے روزمرہ سرکاری معاملات کے لیے صوبائی دارالحکومت جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام شہری کی بنیادی ضروریات، جیسے تعلیم، صحت، پینے کا پانی، ویکسینیشن، ڈرائیونگ لائسنس، بینکنگ، پنشن، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ووٹر رجسٹریشن، گاڑی کی رجسٹریشن، پولیس میں شکایت اور دیگر سرکاری خدمات زیادہ تر ڈویژن، ضلع یا تحصیل کی سطح پر ہی فراہم کی جاتی ہیں۔

نصیر میمن کے مطابق اگر صرف فاصلے نئے صوبوں کے قیام کی بنیاد ہوتے تو خوشاب، ڈیرہ اسماعیل خان، چترال، گھوٹکی، کشمور، پشین اور جیونی جیسے دور دراز علاقوں سے اس مطالبے کی سب سے زیادہ آواز بلند ہوتی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو نئے صوبوں سے زیادہ ایسے مؤثر، جوابدہ اور بااختیار مقامی اداروں اور سرکاری افسران کی ضرورت ہے جو شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ خدمات فراہم کریں۔

نصیر میمن کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ نئے صوبوں کا نہیں بلکہ ملک کے طرزِ حکمرانی (گورننس) کا ہے، جس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کنویں سے بالٹیاں نہیں، مردار نکالنے کی ضرورت ہے۔"