کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والے 25 سالہ نوجوان کاروباری شخصیت اور معروف وافل برانڈ "وافلکس" کے مالک میر رضا علی کی لاش گلستانِ جوہر میں ایک شادی ہال کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقتول کو قتل سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق میر رضا علی، جو پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے رہائشی تھے، گزشتہ شب اپنے گھر پہنچنے کے بعد تقریباً صبح 4 بجے اپنی والدہ کو یہ کہہ کر باہر گئے کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم اس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے۔ اہل خانہ نے متعدد کوششوں کے باوجود ان سے رابطہ نہ ہونے پر مددگار 15 سے رجوع کیا اور بعد ازاں فیروزآباد تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔
بدھ کے روز گلستانِ جوہر بلاک 1 میں شادی قلعہ کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش برآمد ہوئی، جسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق لاش ایک سے دو روز پرانی معلوم ہوتی ہے اور جسم کے بعض حصوں پر جلنے کے نشانات بھی موجود تھے، جس کے باعث شناخت مشکل تھی۔ مقتول کی شناخت ان کے والد نے کپڑوں کی مدد سے کی، جبکہ پولیس کے مطابق جسم پر تشدد کے دیگر نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔
ایس ایچ او کامران قریشی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مار کر قتل کیا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنا شروع کر دی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔
دوسری جانب میر رضا علی کے والد نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی نوجوان کاروباری کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔




