متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر 28ویں آئینی ترمیم میں ان کا مطالبہ شامل نہ کیا گیا تو کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی اور احتجاجاً شاہراہِ فیصل بلاک کر دی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی کے عوام کو ان کے آئینی، انتظامی اور مالی حقوق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت 28ویں آئینی ترمیم میں اپنے مطالبات کو شامل کرنے پر زور دے رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا تو ایم کیو ایم پاکستان احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی، جس کے تحت شاہراہِ فیصل کو بلاک کرنے سمیت دیگر احتجاجی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، اس لیے شہر کے عوام کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے ہر آئینی و جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔




