ممبئی: بالی ووڈ اداکار عامر خان کے خلاف ایک متنازع بیان سامنے آنے کے بعد بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایودھیا سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما جگد گرو پرمہنس آچاریہ نے عامر خان کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے انہیں قتل کرنے والے کے لیے 5 کروڑ بھارتی روپے انعام دینے کا اعلان کیا۔ یہ بیان عامر خان کی ذاتی زندگی اور ان کی حالیہ شادی سے متعلق لگائے گئے الزامات کے تناظر میں دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق، یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے عامر خان کی ذاتی زندگی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں "لو جہاد" سے جوڑا۔ بعد ازاں جگد گرو پرمہنس آچاریہ نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا، جس پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، حالیہ دنوں میں بعض مقامات پر عامر خان کے خلاف احتجاج اور مظاہرے بھی کیے گئے، جبکہ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب، اس خبر کے سامنے آنے تک عامر خان یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس متنازع بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

قانونی ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف تشدد پر اکسانے یا ایسے اعلانات سنگین نوعیت کے معاملات ہیں، جنہیں قانون کے دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم اس معاملے میں سرکاری سطح پر کسی کارروائی یا مقدمے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

نوٹ: اس خبر میں شامل متنازع بیانات متعلقہ افراد سے منسوب دعوے ہیں۔ سایا ڈیجیٹل ان دعوؤں کی توثیق نہیں کرتا اور نہ ہی کسی قسم کے تشدد یا نفرت انگیز بیانات کی حمایت کرتا ہے۔