کراچی پولیس نے نوجوان ڈاکٹر آکاش کمار کے قتل اور ڈکیتی کیس میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ملزمان کو ڈیفنس پولیس کی حدود سے گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واردات میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین افراد شریک تھے، جبکہ منصوبہ بندی کے دوران ایک کار بھی استعمال کی گئی۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر آکاش کے بینک پہنچنے سے پہلے ہی ملزمان موقع پر موجود تھے۔ ایک ملزم نے پہلے ریکی کی اور پھر اپنے ساتھیوں کو اطلاع دی، جس کے بعد واردات کی گئی۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ کیس کی تفتیش کے دوران 100 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا، جس کی مدد سے ملزمان تک رسائی ممکن ہوئی۔ گرفتار افراد سے لوٹی گئی رقم کا کچھ حصہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
ادھر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ کیس میں مزید دو مشتبہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور انہیں بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب کیے گئے سی سی ٹی وی کیمروں نے اس کیس کی تفتیش میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً 1,150 کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسرا مرحلہ تکمیل کے قریب ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں بھی گزشتہ مدت کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔




