افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد سندھ کو خاطر خواہ ترقی حاصل نہ ہو سکی۔ سندھ کے موجودہ بجٹ، جو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے نفاذ کے بعد 16واں بجٹ ہے، پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کمی کی وجہ وفاق کی جانب سے آرٹیکل 164 کے تحت ملنے والی 260 ارب روپے کی گرانٹ میں کمی کو قرار دیا۔ تاہم سرکاری اعدادوشمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ سندھ کی آمدنی کا بڑا حصہ وفاقی منتقلی، کراچی سے جمع ہونے والے بالواسطہ ٹیکسوں اور زرعی آمدنی ٹیکس پر مشتمل ہے۔ مالی سال 2026-27 میں وفاقی منتقلی 2.263 کھرب روپے جبکہ صوبائی ٹیکسوں سے 337 ارب روپے اور دیگر ذرائع سے 65 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس طرح صوبے کو مجموعی طور پر 402 ارب روپے اضافی وسائل میسر آئیں گے، لیکن زرعی آمدنی ٹیکس اب بھی صرف 6 ارب روپے ہے، جو کل آمدنی کا نہایت معمولی حصہ ہے۔ اتنی بڑی اضافی آمدنی کے باوجود ترقیاتی بجٹ بڑھانے کے بجائے زیادہ تر رقم غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ کی گئی۔ گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں جاری اخراجات میں 418 ارب روپے اضافہ کیا گیا، جبکہ ترقیاتی بجٹ میں نمایاں کمی آئی۔ گزشتہ 16 برسوں میں این ایف سی اور دیگر ذرائع سے سندھ کو تقریباً 19.3 کھرب روپے موصول ہوئے، لیکن ان میں سے صرف 17 فیصد ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے گئے، جبکہ باقی رقم تنخواہوں، انتظامی اور دیگر غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہوئی۔ اگرچہ کراچی سندھ کی تقریباً 95 فیصد ٹیکس آمدنی پیدا کرتا ہے، لیکن گزشتہ 16 برسوں میں شہر کے بنیادی ڈھانچے پر صرف 680 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو اس کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق کراچی کو بنیادی ڈھانچے کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر درکار ہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کا بجٹ بھی مسلسل کم کیا گیا۔ 2011-12 میں صوبائی بجٹ کا 16 فیصد بلدیاتی اداروں کو ملتا تھا، جو اب کم ہو کر صرف 5.6 فیصد رہ گیا ہے۔ اگر پرانا مالیاتی نظام برقرار رہتا تو کراچی کو رواں سال 170 سے 230 ارب روپے مل سکتے تھے، مگر کراچی میونسپل کارپوریشن کو صرف 27 ارب روپے دیے گئے ہیں۔ زرعی آمدنی ٹیکس کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اگر اسے مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تو قومی سطح پر جی ڈی پی کا تقریباً 1 فیصد اور سندھ میں تقریباً 300 ارب روپے حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن موجودہ بجٹ میں اس سے صرف 6 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان مالی ترجیحات کے اثرات سندھ کے سماجی اشاریوں پر واضح ہیں۔ کبھی سندھ صحت اور تعلیم کے میدان میں پنجاب کے برابر سمجھا جاتا تھا، مگر آج کئی شعبوں میں پنجاب اور خیبرپختونخوا سے پیچھے رہ چکا ہے۔ بچوں کی بڑی تعداد اب بھی اسکول سے باہر ہے اور حفاظتی ٹیکوں کی شرح بھی کم ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سندھ کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کے غلط استعمال اور غیر مؤثر تقسیم ہے۔ اگر یہی طرزِ حکمرانی جاری رہی تو وافر مالی وسائل کے باوجود سندھ کی ترقی متاثر رہے گی، اور کراچی، جو ملکی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہے، اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق قومی اقتصادی ترقی میں کردار ادا نہیں کر سکے گا۔
(مضمون کے مصنف سابق وفاقی سیکریٹری اور نگران صوبائی وزیر رہ چکے ہیں، اور اس وقت نیشنل ٹیکس کونسل کے چیئرمین ہیں۔)





