کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت، کھیل و امورِ نوجوانان اور اینٹی کرپشن محمد بخش مہر نے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ قومی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے اور مشکل حالات میں پاکستان کو مسائل سے نکالنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی بہتری کے لیے جدید اور سائنسی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے، جبکہ زرعی زمینوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

محمد بخش مہر نے بتایا کہ رواں سال سندھ میں 4.9 ملین میٹرک ٹن گندم کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی، جس میں کاشتکاروں کو کھاد اور معیاری بیجوں پر دی گئی سبسڈی کا اہم کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ سیڈ کارپوریشن کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے، جبکہ گھوٹکی میں زرعی یونیورسٹی کے قیام کی بنیاد بھی رکھی جائے گی تاکہ زرعی تحقیق اور تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔

نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے وزیر زراعت نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت جلد "سندھ یوتھ کارڈ" متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں متعدد یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران مزید چار یوتھ سینٹرز مکمل کیے جائیں گے۔

کھیلوں کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے محمد بخش مہر نے کہا کہ 18 سال بعد سندھ میں نیشنل گیمز کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر کے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر خصوصی مہمان تھے۔

اینٹی کرپشن کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بدعنوانی ایک بڑا ناسور ہے اور حکومت اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اینٹی کرپشن کمپلیکس کی عمارت کو 11 منزلہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ادارے کی استعداد کار میں اضافہ ہو سکے۔

محمد بخش مہر نے کہا کہ احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور کسی بھی سطح پر بدعنوانی میں ملوث افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اینٹی کرپشن افسران کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے، جبکہ محکمہ میں 130 افسران کو ترقیاں دی گئی ہیں تاکہ ادارہ مزید مؤثر انداز میں کام کر سکے۔