کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر فشریز و لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی نے کہا کہ سجاول سندھ کے پسماندہ ترین اضلاع میں شامل ہے اور وہاں بنیادی انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹنڈو محمد خان تا سجاول سڑک کی تکمیل ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر قابلِ ذکر کام کیا ہے۔

محمد علی ملکانی نے کہا کہ ساحلی پٹی (کوسٹل بیلٹ) طویل عرصے سے نظرانداز رہی ہے، اس لیے ٹھٹھہ، سجاول اور بدین روڈ کو دو رویہ (ڈبل) سڑک میں تبدیل کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سجاول سے ٹھٹھہ تک پیپلز بس سروس شروع کی جائے اور سجاول میں چیسٹ پین یونٹ قائم کیا جائے تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

وزیر فشریز و لائیو اسٹاک نے کہا کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، تاہم بعض علاقوں میں سیاسی کارکنوں کے قتل جیسے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔

لائیو اسٹاک کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 6 کروڑ سے زائد مویشی موجود ہیں اور دیہی آبادی مویشی پال کر معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے 2 کروڑ 33 لاکھ چھوٹے جانوروں کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے، جس سے مویشیوں کی صحت اور پیداوار میں بہتری آئے گی۔

فشریز کے شعبے کے حوالے سے محمد علی ملکانی نے کہا کہ کراچی فش ہاربر سے مچھلی کی برآمدات ہوتی ہیں اور یہ ملکی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث رواں سال ہاربر کے ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہو سکے، تاہم آئندہ مالی سال میں کراچی فش ہاربر کے تمام ترقیاتی کام مکمل کر لیے جائیں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت ساحلی علاقوں، ماہی گیروں اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی۔