کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور ڈاکٹر شام سندر آڈوانی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں امن و استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے اور اس میں ملکی قیادت اور اداروں کا کردار قابلِ ذکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ہمیشہ سے امن، محبت، رواداری اور بھائی چارے کی دھرتی رہا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ملک کا ہر شہری بلا امتیاز برابر حقوق کا حامل ہے۔

ڈاکٹر آڈوانی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو قائم ہوئے 58 برس ہو چکے ہیں اور اس دوران پارٹی نے جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جمہوریت کی بحالی کی تاریخی تحریک ایم آر ڈی کی قیادت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کا وہ صوبہ ہے جہاں اقلیتی برادریوں کی بڑی تعداد آباد ہے، اس لیے ان کی سماجی اور معاشی بہتری حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ رواں مالی سال میں اقلیتی امور کے محکمے کے تحت 80 ترقیاتی اسکیمیں جاری ہیں، جن میں سے 30 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی امور نے غریب اور مستحق افراد کی مدد کے لیے مختلف فلاحی اقدامات بھی کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 650 طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور بہتر مستقبل حاصل کر سکیں۔

ڈاکٹر شام سندر آڈوانی نے کہا کہ سندھ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور قانون سازی کے حوالے سے ملک میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایات کے تحت اقلیتی برادریوں کی فلاح کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ میں اقلیتی امور کے دفاتر فعال ہیں، جہاں اقلیتی برادریوں کو مختلف سہولیات اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

خطاب کے دوران انہوں نے سندھ حکومت کے اس فیصلے کو بھی سراہا جس کے تحت اسکولوں کے نصاب میں ہندو طلبہ کے لیے ان کے مذہبی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام پر وزیر تعلیم سردار شاہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مذہبی ہم آہنگی اور مساوی حقوق کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا