کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا اور ایم کیو ایم کے ارکان احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔

پیپلز پارٹی کے رکن راجہ رزاق نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کی فطرت میں تنازع اور محاذ آرائی شامل ہے، اسی لیے وہ ہر معاملے میں تصادم کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن حکومتی ارکان کو بات نہیں کرنے دے گی تو پھر حکومتی بینچز بھی خاموش نہیں رہیں گے۔ ان کے خطاب کے دوران ایم کیو ایم ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا۔

راجہ رزاق نے کہا کہ ان کی تربیت گالم گلوچ یا ذاتی حملوں کی نہیں اور وہ سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمانی روایات کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی روایت محبت، برداشت اور رواداری کی ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ عالمی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے صوبے کے لیے منصوبے اور فنڈز حاصل کرتے ہیں، جو عوامی فلاح کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اپوزیشن پر مزید تنقید کرتے ہوئے راجہ رزاق نے کہا کہ ایم کیو ایم کی قیادت اور سیاسی سمت خود ان کے لیے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، جبکہ کراچی کے عوام متعدد مواقع پر اپنا سیاسی فیصلہ سنا چکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے عوام نے نفرت اور تصادم کی سیاست کو مسترد کیا ہے اور شہر کی ترقی و استحکام کے لیے مثبت سیاست کی ضرورت ہے۔

بحث کے دوران ایوان میں شور شرابہ بڑھنے پر ایم کیو ایم کے ارکان احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے، تاہم بعد ازاں وہ دوبارہ اسمبلی میں واپس آ گئے اور بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری رہا