کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن فرحان انصاری کی تقریر پر ایوان میں تنازع کھڑا ہوگیا، جس کے بعد صوبائی وزیر ضیاء الحسن لنجار نے معاملے کی انکوائری کا مطالبہ کر دیا۔

ضیاء لنجار نے ایوان میں کہا کہ فرحان انصاری کی تقریر پورے میڈیا پر نشر ہوئی ہے اور اس میں "بوری بند لاشوں" کا حوالہ دے کر دھمکی آمیز انداز اختیار کیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حکومتی ارکان کو دھمکیاں دی گئی ہیں، لہٰذا معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اسپیکر سندھ اسمبلی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر تفصیلات فراہم کی جائیں تو وہ ویڈیو ریکارڈنگ منگوا کر معاملے کا جائزہ لیں گے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے رکن طحہ احمد نے کہا کہ انکوائری ضرور ہونی چاہیے، تاہم تحقیقات میں ان کا مؤقف بھی سنا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف ایک جانب نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ ایوان میں کشیدگی اور اشتعال انگیزی کا آغاز کہاں سے ہوا۔

طحہ احمد نے مزید کہا کہ ایوان میں پہلے سے یہ طے پایا تھا کہ سیاسی قیادتوں پر ذاتی نوعیت کی گفتگو نہیں ہوگی، تاہم بعض حکومتی رہنماؤں نے بھی ماحول کو کشیدہ بنانے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر فرحان انصاری کی تقریر کے حصے کارروائی سے حذف کیے جاتے ہیں تو پھر ان تمام تقاریر کا بھی جائزہ لیا جائے جن میں غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔

معاملے پر ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ اسپیکر نے تمام اعتراضات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی۔سندھ اسمبلی میں فرحان انصاری کی تقریر پر تنازع، ضیاء لنجار نے انکوائری کا مطالبہ کر دیا

کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن فرحان انصاری کی تقریر پر ایوان میں تنازع کھڑا ہوگیا، جس کے بعد صوبائی وزیر ضیاء الحسن لنجار نے معاملے کی انکوائری کا مطالبہ کر دیا۔

ضیاء لنجار نے ایوان میں کہا کہ فرحان انصاری کی تقریر پورے میڈیا پر نشر ہوئی ہے اور اس میں "بوری بند لاشوں" کا حوالہ دے کر دھمکی آمیز انداز اختیار کیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حکومتی ارکان کو دھمکیاں دی گئی ہیں، لہٰذا معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اسپیکر سندھ اسمبلی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر تفصیلات فراہم کی جائیں تو وہ ویڈیو ریکارڈنگ منگوا کر معاملے کا جائزہ لیں گے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے رکن طحہ احمد نے کہا کہ انکوائری ضرور ہونی چاہیے، تاہم تحقیقات میں ان کا مؤقف بھی سنا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف ایک جانب نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ ایوان میں کشیدگی اور اشتعال انگیزی کا آغاز کہاں سے ہوا۔

طحہ احمد نے مزید کہا کہ ایوان میں پہلے سے یہ طے پایا تھا کہ سیاسی قیادتوں پر ذاتی نوعیت کی گفتگو نہیں ہوگی، تاہم بعض حکومتی رہنماؤں نے بھی ماحول کو کشیدہ بنانے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر فرحان انصاری کی تقریر کے حصے کارروائی سے حذف کیے جاتے ہیں تو پھر ان تمام تقاریر کا بھی جائزہ لیا جائے جن میں غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔

معاملے پر ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ اسپیکر نے تمام اعتراضات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی