کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن فرحان انصاری کی تقریر پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ فرحان انصاری نے اپنی تقریر میں حکومت سندھ، مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اداروں پر سخت تنقید کی، جس پر حکومتی ارکان نے شدید احتجاج کیا۔

فرحان انصاری نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ حکومت کے لیے "گلے کی ہڈی" بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ منصوبے میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں اور بعد ازاں لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔

انہوں نے سولر پروگرام میں بھی اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات لگائے اور سندھ پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے طنزیہ انداز میں اس کا نام تبدیل کرنے کی تجویز دی۔

اپنی تقریر کے دوران فرحان انصاری نے بعض سخت جملے استعمال کیے، جن پر پیپلز پارٹی کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور شدید احتجاج شروع کر دیا۔ حکومتی ارکان مسلسل مطالبہ کرتے رہے کہ فرحان انصاری اپنے الفاظ واپس لیں۔

ڈپٹی اسپیکر نے بھی رکن اسمبلی کو اپنے الفاظ واپس لینے کی ہدایت کی، تاہم فرحان انصاری نے مؤقف اختیار کیا کہ "میں نے کوئی گالی نہیں دی ہے"۔

اس دوران پیپلز پارٹی کے ارکان اور اپوزیشن اراکین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پیپلز پارٹی کے رکن راجہ رزاق نے مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم کے رکن معافی مانگیں، جبکہ وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے فرحان انصاری کی پوری تقریر کارروائی سے حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے ہدایت جاری کی کہ تمام غیر پارلیمانی اور غیر اخلاقی الفاظ کارروائی سے حذف کیے جائیں۔

اجلاس کے دوران صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جب حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے آگئے۔ ایوان میں شدید شور شرابے کے باعث کارروائی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی اور ماحول انتہائی گرم ہوگیا۔