اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے شیخوپورہ میں 10 سالہ طالبہ سے زیادتی کے جرم میں سزا یافتہ شخص کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں عدالت نے مجرم پر عائد 3 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ کی اضافی قید کی سزا بھی برقرار رکھی۔
عدالت نے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت متاثرہ بچی کو ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم بھی برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تعلیمی اداروں اور اسکول آنے جانے والے راستوں پر طالبات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے تمام صوبائی آئی جیز اور آئی جی اسلام آباد کو اسکولوں کے باہر پولیس گشت بڑھانے اور بچیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے کی شکایات پر پولیس بلا تاخیر کارروائی کرے۔
سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سندھ میڈیکل لیگل ایکٹ کی طرز پر جدید میڈیکو لیگل نظام قائم کرنے کی سفارش بھی کی۔
عدالت کے مطابق شیخوپورہ کی ایک ہاؤسنگ کالونی کے اسکول میں کام کرنے والے سویپر نے 10 سالہ طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میڈیکل رپورٹ میں بچی کے جسم پر چوٹوں اور زیادتی کے شواہد کی تصدیق ہوئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک رپورٹ میں سیمن نہ ملنے سے کیس ختم نہیں ہوتا، جبکہ ایف آئی آر کے اندراج میں 3 دن کی تاخیر بھی ملزم کو فائدہ نہیں دے سکتی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اسکول انتظامیہ نے واقعہ چھپانے کی کوشش کی اور بچی کو اسکول کے اندر ہی ڈرِپ لگائی گئی۔ انتظامیہ کی خاموشی اور تاخیر کا نقصان متاثرہ بچی اور اس کی بیوہ والدہ کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔
عدالت نے ملزم کا جھگڑے اور جھوٹے مقدمے میں پھنسائے جانے کا مؤقف بھی مسترد کر دیا۔




