کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ موجودہ معاشی دباؤ اور مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت نے ایک متوازن بجٹ پیش کیا ہے اور موجودہ حالات میں اس سے بہتر بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھا گیا ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے وفاقی سطح پر خصوصی پیکیج دیا جانا چاہیے تاکہ پسماندہ علاقوں کے مسائل حل کیے جا سکیں۔
امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ گیس اور بجلی سندھ میں پیدا ہوتی ہے اور پورے ملک کو توانائی فراہم کرنے میں سندھ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود صوبے کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شکارپور میں روزانہ 18 سے 20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حیسکو اور سیپکو کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی تجویز زیر غور آئی تھی اور صوبائی حکومت نے بھی ان اداروں کو سنبھالنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دوبارہ کوشش کی جائے تاکہ حیسکو اور سیپکو کا انتظام صوبائی حکومت کے حوالے کیا جا سکے۔ ان کے مطابق سندھ وہ واحد صوبہ ہے جو پاکستان میں بجلی کے بحران کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ تھر کول ملک کے توانائی بحران کا دیرپا حل ہے اور یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی پورے پاکستان میں سب سے کم لاگت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تھر کول منصوبوں کو مزید وسعت دی جائے تاکہ ملک توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو سکے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ شکارپور، گھوٹکی، جیکب آباد اور کشمور سمیت بالائی سندھ کے اضلاع میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو حکومت کی مؤثر پالیسیوں کا نتیجہ ہے




