کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اوقاف و زکوٰۃ ریاض شاہ شیرازی نے کہا کہ وہ اسمبلی میں اپنے چھٹے بجٹ پر اظہار خیال کر رہے ہیں اور حکومت سندھ عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیٹی بندر پورٹ کی تعمیر نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقوں کو سمندر کے بڑھتے ہوئے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت سندھ نے پروٹیکشن بند کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں۔ یہ بند گھارو سے علی بندر تک تعمیر کیا جائے گا اور سمندر کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ریاض شاہ شیرازی نے بتایا کہ محکمہ اوقاف کے تحت 35 ترقیاتی اسکیمیں جاری ہیں جن میں سے 14 اسکیمیں مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ باقی تمام منصوبے نئے مالی سال میں مکمل کر لیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں محکمہ اوقاف کی کمرشل پراپرٹیز موجود ہیں جن کی نیلامی (آکشن) کی جائے گی، جس سے محکمے کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
وزیر اوقاف نے کہا کہ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے لیے مختص فنڈز مزار اور اس سے متعلق ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے جاتے ہیں، جبکہ مزار کی جاری اسکیمیں بھی نئے مالی سال میں مکمل کر لی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ امن کی دھرتی ہے اور صوبے بھر میں بین المذاہب اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پیغامِ امن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔
زکوٰۃ فنڈز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ 10 ہزار مستحق افراد کو زکوٰۃ کارڈز کے ذریعے مالی امداد فراہم کی جائے گی، جبکہ 66 کروڑ روپے زکوٰۃ فنڈز کی مد میں اسپتالوں کو دیے جا رہے ہیں تاکہ مستحق مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ریاض شاہ شیرازی نے مطالبہ کیا کہ 8600 کامیاب امیدواروں کو، جنہوں نے اساتذہ کے ٹیسٹ پاس کیے ہیں، فوری طور پر ملازمتیں دی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ این سی ایچ (NCH) کے اساتذہ کو باقاعدگی سے ماہانہ تنخواہیں فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
Category:Latest




