کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن ممتاز چانڈیو نے کہا کہ سندھ میں ہونے والی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو اپوزیشن تسلیم نہیں کر رہی، حالانکہ صوبے میں مختلف شعبوں میں نمایاں کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کا تاج اور سندھ کراچی کا دل ہے، جبکہ پورے ملک سے لوگ علاج کی غرض سے سندھ کے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔

ممتاز چانڈیو نے مطالبہ کیا کہ نوشہرو فیروز میں اسی سال این آئی سی وی ڈی کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کو اپنے ضلع میں علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوشہرو فیروز کیمپس کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ علاقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع حاصل ہوں۔

انہوں نے منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے مستقل بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات پولیس افسران ایک ماہ تک سخت کارروائیاں کرتے ہیں، لیکن بعد میں یہ مہم سست پڑ جاتی ہے۔

ممتاز چانڈیو نے بجلی کے بحران پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا کی ناقص کارکردگی کے باعث سندھ کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔