کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اعجاز سواتی نے سندھ کی تقسیم سے متعلق بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کی دھرتی تمام قومیتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی مشترکہ شناخت ہے اور اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی تقسیم کی بات قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایک سنتری کا نام لے کر پولیس کی تضحیک کی گئی، جو مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اعجاز سواتی نے کہا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کو ماضی کی جماعت نہیں سمجھتے، تاہم بعض بیانات افسوسناک ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سندھ کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے کلہوڑا، تالپور اور جوکھیو ادوار کا مطالعہ ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سندھ دھرتی کو تقسیم کرنے کی بات کی جا رہی ہے، حالانکہ یہی وہ سرزمین ہے جہاں پاکستان کی مختلف قومیتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔

اعجاز سواتی نے کہا کہ سندھ ایک ایسی دھرتی ہے جہاں دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کو بھی سیاسی نمائندگی اور آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ سوات سے آئے اور سندھ کی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے رکنِ اسمبلی بنے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے تقسیم کی بات نہیں ہونی چاہیے اور اگر سیاسی اختلافات یا الزامات ہوں تو انہیں برداشت کیا جا سکتا ہے، لیکن سندھ کی حرمت اور یکجہتی پر کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔