کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سکندر شورو نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی اس کے خلاف احتجاج شروع کر دیا گیا، جبکہ بجٹ کو سننے اور سمجھنے کے بعد اس پر رائے دی جانی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ جب سندھ کے حقوق، پانی کی منصفانہ تقسیم اور صوبے کے وسائل کی بات آتی ہے تو اپوزیشن خاموش نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے پانی کے مسئلے اور این ایف سی ایوارڈ جیسے اہم قومی معاملات پر کبھی سنجیدہ مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر سکندر شورو نے کہا کہ اپوزیشن کی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے سیاسی مطالبات رہے ہیں، کبھی گورنر شپ کو ریڈ لائن قرار دیا جاتا ہے اور کبھی وفاقی وزارتوں کے حصول کو اہم مسئلہ بنایا جاتا ہے، جبکہ کراچی کے عوام کو درپیش مسائل پر مؤثر آواز نہیں اٹھائی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ نہ این ایف سی ایوارڈ میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کیا جا سکا، جو پیپلز پارٹی کی قیادت اور اس کی سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ حیدرآباد میں جدید ٹراما سینٹر کے قیام کی اشد ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو ہنگامی طبی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے جامعات کو فنڈز کی فراہمی محدود کر دی ہے، تاہم سندھ حکومت اپنی جامعات کو گرانٹس فراہم کر کے تعلیمی اداروں کی معاونت کر رہی ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کا نظام متاثر نہ ہو۔