کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام شبیر علی نے کہا کہ کراچی سندھ کا اہم حصہ ہے اور صوبے کی معیشت شہری و دیہی علاقوں کے باہمی تعاون سے چلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ قومی ریونیو کا بڑا حصہ کراچی میں جمع ہوتا ہے، لیکن اس آمدن میں دیہی سندھ کا کردار بھی نمایاں ہے کیونکہ زراعت صوبے اور ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم، چاول، گنا اور دیگر زرعی اجناس دیہی سندھ پیدا کرتا ہے، جن سے ملکی معیشت کو تقویت ملتی ہے۔

جام شبیر علی نے کہا کہ ملک کے بڑے بینکوں اور اداروں کے ہیڈ آفس کراچی میں قائم ہیں، تاہم ان کی آمدن اور کاروباری سرگرمیاں پورے صوبے اور ملک سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اور ریونیو مختلف علاقوں سے حاصل ہو کر کراچی میں جمع ہوتا ہے، اس لیے شہری اور دیہی سندھ کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک اکائی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی وہ تاریخی ایوان ہے جس نے قیام پاکستان کی قرارداد منظور کی تھی، اور سندھ ہمیشہ قومی یکجہتی اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کے اسپتال نہ صرف صوبے بلکہ پورے پاکستان کے عوام کو علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ کراچی میں جدید روبوٹک سرجری جیسی طبی سہولیات سے غیر ملکی مریض بھی استفادہ کر رہے ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے جام شبیر علی نے سانگھڑ کی طالبہ علیشبہ خاصخیلی کا ذکر کیا، جنہوں نے سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد روس سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مثال سرکاری تعلیمی اداروں کی صلاحیت اور سندھ کے نوجوانوں کی قابلیت کا ثبوت ہے۔