کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی عبدالباسط نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے قائم کیے گئے اداروں کی اپنی کارکردگی بھی سوالات کی زد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کمپلیکس کی تعمیر 2022 میں مکمل ہونا تھی، لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جس سے منصوبے کی شفافیت اور انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔

عبدالباسط نے الزام عائد کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مخصوص ٹھیکیداروں کو نوازا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ ٹھیکیدار کون ہیں اور ان کی مسلسل سرپرستی کیوں کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق اور منصوبے کی پیش رفت پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی نے مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اربوں روپے کی رقم میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آ سکتے