کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد رکن اسمبلی ساجد میر نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج سندھ کا تعلیم یافتہ نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے لیے دربدر پھر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کو سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرنے والا شہر ہے، مگر ہر دور میں اس کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ ان کے مطابق شہر کو درپیش بنیادی مسائل آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔

ساجد میر نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کے فور منصوبہ 26 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا، جس کے باعث شہری پانی کے بحران کا شکار ہیں۔

انہوں نے کراچی سیف سٹی منصوبے پر اربوں روپے خرچ کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اس منصوبے کے باوجود شہر میں جرائم کا خاتمہ ہو گیا ہے؟ انہوں نے استفسار کیا کہ سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے اب تک کتنے ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں اور اس منصوبے کے عملی نتائج کیا ہیں۔

رکن اسمبلی نے صحت کے شعبے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض ڈسپنسریوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں اور ان کی چھتیں تک گر چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وہ وزیر صحت سے ملاقات کر کے متعلقہ تصاویر بھی دکھا چکے ہیں۔

ساجد میر کا کہنا تھا کہ کراچی پر کھربوں روپے خرچ ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر عوام آج بھی سوال کر رہے ہیں کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور شہر کے مسائل کیوں برقرار ہیں۔

انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا، اسی لیے وہ اور ان کی جماعت اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں