کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی ندا کھوڑو نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ صرف مالی دستاویز نہیں بلکہ مشکل حالات میں عوامی خدمت اور مزاحمت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ جیسے سانحات، سیلاب اور مہنگائی جیسے چیلنجز کے باوجود سندھ حکومت نے ہمت نہیں ہاری اور صوبے بھر میں 900 ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے سرکاری اسپتالوں کو فنڈز فراہم کیے گئے ہیں جہاں لاکھوں مریض علاج کی سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔
ندا کھوڑو نے کہا کہ سندھ کی ریسکیو سروس 1122 بہترین خدمات انجام دے رہی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر خاندانی منصوبہ بندی پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اب تک 10 لاکھ گھر تعمیر کر چکی ہے جبکہ مزید 10 لاکھ گھروں کی تعمیر کا عمل جاری ہے، جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کو رہائشی سہولتیں میسر آئیں گی۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ندا کھوڑو نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ اور وفاق دونوں میں حکومت کا حصہ رہی اور کراچی میں اس کے میئر بھی موجود رہے، لہٰذا انہیں یہ بتانا چاہیے کہ انہوں نے شہر کی ترقی کے لیے کیا اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے، تاہم صرف تنقید کے بجائے متبادل نظام اور قابل عمل تجاویز بھی پیش کی جانی چاہئیں۔ ان کے مطابق سندھ حکومت نے فلائی اوورز، انڈر پاسز اور دیگر اہم ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں جن کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔
ندا کھوڑو نے مطالبہ کیا کہ سندھ کو آئین کے مطابق پانی کا جائز حصہ فراہم کیا جائے اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے




