کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی ڈاکٹر فوزیہ حمید نے سندھ حکومت کی کارکردگی اور بجٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر عوام بنیادی سہولیات کے لیے کیوں ترس رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں لوگ پانی کے حصول کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

ڈاکٹر فوزیہ حمید کا کہنا تھا کہ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ لوگ عزاداری اور دیگر مصروفیات چھوڑ کر پانی کے ٹینکروں کے پیچھے بھاگنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے بجٹ کو عوامی فلاح سے دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عام شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کوئی نمایاں پروگرام شامل نہیں ہے۔

ایم کیو ایم رکن اسمبلی نے کہا کہ کراچی کے لیے 100 ارب روپے کے منصوبوں کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن شہر کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ملک کو بڑا ریونیو فراہم کرتا ہے، مگر اس کے باوجود شہر کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے مسائل کے حل اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں