کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن پیر مجیب الحق نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صوبوں کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض جماعتیں ریاست مدینہ کے دعوے کرتی رہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے عملی طور پر لاکھوں افراد کو مختلف فلاحی منصوبوں کے ذریعے سہولیات فراہم کیں۔
پیر مجیب الحق نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی کی تعمیر و ترقی کے دعوے کرنے والے اکثر وفاقی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں، لیکن انہوں نے شہر کے مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت سندھ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، تاہم اس وقت کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ پانی کے بحران نے بھی زرعی شعبے کو متاثر کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ سندھ کے خلاف آئے روز نئے تنازعات کھڑے کیے جا رہے ہیں، کبھی نئی نہروں کا معاملہ سامنے آتا ہے اور کبھی چشمہ کینال جیسے منصوبوں پر بحث چھیڑ دی جاتی ہے، جس سے صوبے میں تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کراچی کا ایک تاریخی اور اہم ترقیاتی منصوبہ ہے، لیکن اپوزیشن کے کسی رکن نے اس منصوبے کی اہمیت اور افادیت پر بات نہیں کی، حالانکہ یہ منصوبہ شہر کے ٹریفک نظام اور ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔




