کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی سیدہ ماروی راشدی نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن کے رویے پر تنقید کی اور کہا کہ بجٹ تقریر سنے بغیر ایوان سے بائیکاٹ کرنا اپنے ووٹرز اور عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا اور ایوان کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ ماروی راشدی نے کہا کہ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے دور حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے اور پھر تنقید کرے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اپوزیشن نے کبھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا عوامی فلاحی منصوبہ دیا، یا تھر کول منصوبے جیسا کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی کے لیے بھی پیپلز پارٹی نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ شاہراہ فیصل جیسے بڑے منصوبے کی بنیاد بھی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں رکھی گئی۔

ماروی راشدی نے کہا کہ تاریخی ایمپریس مارکیٹ کی بحالی سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے پیپلز پارٹی کی سوچ اور وژن کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کو ایک غیر معمولی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو رہائش کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شکارپور، گھوٹکی اور جیکب آباد سمیت مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں اہم کامیابیاں ہیں۔ تاہم انہوں نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کو سخت سزائیں دی جائیں اور ان سزاؤں کو عوام کے سامنے بھی لایا جائے۔

سیدہ ماروی راشدی نے سندھ کے پانی کے مسئلے پر بھی آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے کے ساتھ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم ہو رہی ہے، جس کے خلاف وہ بھرپور احتجاج کرتی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم کیا جائے