کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد رکن اسمبلی ریحان بندوکڑا نے اپنے حلقے اور کراچی کو درپیش مسائل پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے کی تقریباً تمام کالونیاں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں روزانہ 16،16 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، جس سے شہری زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کو عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
ریحان بندوکڑا نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ میں فنڈز تو رکھے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر منصوبے مکمل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق صرف اعلانات اور وعدوں سے شہر کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے بچوں میں غذائی قلت کی تشویشناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں بچے غذائی کمی کا شکار ہیں، جس کے باعث ان کی جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
رکن اسمبلی نے سندھ پولیس کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں اور اس شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وہ متعدد بار صوبائی وزیر داخلہ کی توجہ بھی مبذول کرا چکے ہیں۔
ریحان بندوکڑا نے کراچی کو ایک نازک مرحلے پر کھڑا شہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ شہر کو کس سمت لے جانا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو منتخب نمائندے بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے اور اس کے مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں




