کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی فہیم پٹنی نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے بلدیہ فیکٹری کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جس نے کئی معاملات کو واضح کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا بلدیہ فیکٹری سانحے میں کوئی کردار نہیں تھا اور عدالت کے فیصلے نے اس مؤقف کو تقویت دی ہے۔

فہیم پٹنی نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان خود ایوان میں کھڑے ہو کر مسائل کا ذکر کر رہے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 18 برسوں میں صوبے کے مختلف شعبوں میں کیا صورتحال رہی ہے۔

ایم کیو ایم رکن اسمبلی نے کہا کہ جب بھی مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے اور آرٹیکل 140-A پر عملدرآمد کی بات کی جاتی ہے تو سندھ حکومت اس پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہی عوامی مسائل کے حل کی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہو رہا اور صوبائی سطح پر وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔

فہیم پٹنی کا کہنا تھا کہ وفاق سے حاصل ہونے والے وسائل اور فنڈز کو صوبے کے تمام علاقوں میں مساوی بنیادوں پر تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ عوام ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔