کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن ہالار وسان نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی خواتین کو بااختیار بنانے پر یقین رکھتی ہے اور اسی سوچ کے تحت مختلف فلاحی منصوبوں میں خواتین کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے گئے گھروں کی ملکیت خواتین کے نام پر منتقل کی گئی، جس سے انہیں معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنانے میں مدد ملی ہے۔
ہالار وسان نے زرعی شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرعی آمدنی ٹیکس تمام کاشتکار ادا کرتے ہیں، تاہم ایک ایکڑ سے 12 ایکڑ تک زمین رکھنے والے چھوٹے کاشتکاروں کو زرعی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جانا چاہیے تاکہ ان پر مالی بوجھ کم ہو۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جونیئر سائنس ٹیچرز کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں سائنس کی تعلیم کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ کیٹی بندر پورٹ سندھ کا مستقبل کا اہم منصوبہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے سندھ میں پانی کی شدید قلت کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1991 کے آبی معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا، جس کے باعث صوبہ اپنے حصے کے پانی سے محروم ہے۔
ہالار وسان نے ایوان سے مطالبہ کیا کہ ارسا کے رویے اور پانی کی تقسیم سے متعلق تحفظات کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی جائے تاکہ سندھ کے آبی حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے