کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی رخسانہ شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ میں غربت کے خاتمے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔
انہوں نے سندھ حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ٹھٹھہ کے لیے متعدد ترقیاتی اسکیمیں رکھی گئی ہیں، جو علاقے کی ترقی اور عوامی سہولیات میں اضافے کا باعث بنیں گی۔
رخسانہ شاہ نے کہا کہ کوہستان کے علاقے میں پینے کے پانی کا سنگین مسئلہ درپیش ہے، تاہم بجٹ میں پانی کی مختلف اسکیمیں شامل کی گئی ہیں، جن سے مقامی آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے سندھ میں نہری پانی کی مسلسل قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے جبکہ مویشی بھی پیاس اور خشک سالی کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں، جس سے دیہی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ وفاقی سطح پر سندھ کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1991 کے آبی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے سندھ کو اس کا جائز اور مقررہ پانی کا حصہ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پانی سندھ کی معیشت، زراعت اور عوامی زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے، اس لیے صوبے کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔




