اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ وفاقی وزیر عطا تارڑ کا مایوس نوجوان اظہر میمن کے ساتھ ہمدردانہ رویہ قابلِ تعریف ہے۔ انہیں داد دینی چاہیے کہ انہوں نے اس نوجوان کو اسلام آباد بلا کر اپنے دفتر میں بٹھایا، بلکہ اپنی کرسی پر بٹھایا اور اسے بھرپور عزت دی۔ وزیرِ وفاق کا ایسا خلوص بھرا رویہ دیکھ کر اظہر کی آنکھوں سے آنسو نکل آنا ایک فطری ردعمل تھا۔
جس نوجوان نے یہ سمجھ لیا ہو کہ اس کی قابلیت، محنت اور اخلاق کی اس ملک میں کوئی قدر نہیں، اسے اگر اچانک کوئی وزیر اتنی عزت دے، تو یقیناً یہ کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ عطا تارڑ نے اپنے اس عمل سے خاص طور پر سندھ کے لوگوں اور عام طور پر پورے پاکستان کے دل جیت لیے ہیں۔ اس سارے واقعے سے یہ تاثر ابھرا کہ سیاسی قیادت نوجوانوں کی فکر کرتی ہے، چاہے وہ وفاقی سطح کی قیادت ہی کیوں نہ ہو؛ یہ کہ حکومتی نظام کام کر رہا ہے؛ اور یہ کہ میرٹ کی قدر موجود ہے۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟
لیکن ذرا ٹھہریے۔ اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں تاکہ وہ پہلو بھی سامنے آئیں جو سوشل میڈیا کے شور میں دب جاتے ہیں۔ تارڑ صاحب واقعی داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس نوجوان کی خبرگیری کی، جسے شاید سندھ حکومت نے قابلِ توجہ بھی نہ سمجھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اظہر کو ملنے والی یہ نوکری میرٹ پر نہیں بلکہ ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی ہے (یعنی باقاعدہ مقابلے کے بجائے ذاتی مداخلت سے)۔ یہ نوکری کتنے عرصے تک برقرار رہے گی، یہ الگ سوال ہے۔ مگر اظہر جیسے لاکھوں قابل مگر بے روزگار نوجوان سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں موجود ہیں—ان کا کیا ہوگا؟
اس لیے میرا خیال ہے کہ اگرچہ تارڑ صاحب کا یہ عمل شاندار ہے، لیکن یہ محض علامتی بھی ہے۔ ایک نوجوان کی سرپرستی کو اس طرح پیش نہیں کیا جانا چاہیے جیسے خراب حکمرانی پر اچھی حکمرانی نے فتح حاصل کر لی ہو، یا ایک سیاسی جماعت بری اور دوسری بہتر ہو گئی ہو۔ یہاں ضروری ہے کہ ہم مسئلے کی جڑ کو دیکھیں، کیونکہ سطحی اور جذباتی تجزیے اس صورتحال میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتے۔
یہ صرف سندھ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی یہی صورتحال ہے، جہاں بیک وقت تین نظام چلتے نظر آتے ہیں۔ پہلا، باقاعدہ یا فارمل نظام، جس میں قانون، بھرتیوں کے اصول اور ضابطے واضح ہیں۔ دوسرا، غیر رسمی یا انفارمل نظام، جہاں حکمران جماعتوں کے تعلقات، قبائلی ڈھانچے اور ذاتی روابط سفارشی کلچر کو زندہ رکھتے ہیں۔ تیسرا، نمائش کا نظام، جو میڈیا کے ذریعے تشکیل پاتا ہے، جہاں اقتدار میں بیٹھے لوگ ایک یا دو علامتی اچھے اقدامات کے ذریعے مثبت تاثر بناتے ہیں اور اس طرح نظام کی بڑی خامیوں کو چھپا دیا جاتا ہے۔
ان تینوں نظاموں کا مشترکہ المیہ یہ ہے کہ باقاعدہ نظام کمزور ہے، جہاں میرٹ پر نوکری حاصل کرنا مشکل ہو چکا ہے؛ جبکہ غیر رسمی نظام بہت مضبوط ہے، جہاں پیسہ، سفارش اور ذاتی تعلقات کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ میڈیا کسی ایک واقعے کو وائرل کر کے مثبت یا منفی تاثر ضرور پیدا کرتا ہے، جو جذبات تو ابھارتا ہے، مگر اصل مسئلے کے حل میں مددگار نہیں ہوتا۔ ایسے تاثر حقیقت سے دور ہوتے ہیں اور دیرپا بھی نہیں رہتے۔
نوجوان کے ساتھ ہمدردی کا یہ عمل یقیناً خوش آئند ہے، لیکن اس طریقے سے کتنے نوجوان بے روزگاری کے دلدل سے نکل سکیں گے؟ ذرا اس پر غور کیجیے۔ تارڑ صاحب، آپ حکومت میں ہیں—نظام کو بہتر اور مضبوط بنائیے تاکہ ملک کے قابل نوجوان سفارش اور پیسے کی کمی کی وجہ سے مایوس ہو کر غلط راستوں کا انتخاب نہ کریں، بلکہ میرٹ پر مقابلہ کر کے اپنی اور ملک کی خدمت کر سکیں