مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ خلیج کے پانیوں میں اٹھنے والی تازہ کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان معمولی سا واقعہ بھی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کی طرف مرکوز ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ امریکی مؤقف کے مطابق پہلے جہاز کو وارننگ دی گئی اور بعد ازاں اس کے انجن روم کو ناکارہ بنا کر اسے روک لیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد جہاز پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور جوابی کارروائی کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیاء نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے خلیج عمان میں ایرانی تجارتی بحری جہاز پر فائرنگ کر کے نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی کی بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی اور ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو غیر منطقی مطالبات ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
ان الزامات اور جوابی بیانات کے درمیان خطے میں ایک بار پھر جنگ کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے سخت لہجے میں دھمکی آمیز بیانات سامنے آ رہے ہیں، جو بظاہر سفارتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔ عالمی سیاست میں یہ روایت نئی نہیں کہ مذاکرات کی میز پر بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لئے طاقت کے اظہار اور سخت بیانات کا سہارا لیا جائے، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ دھونس اور دھمکی اکثر تنازعات کے حل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
ایسے نازک ماحول میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت سے بھی آگاہ کیا۔ یہ رابطے اس بات کی علامت ہیں کہ اسلام آباد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے متحرک سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ مسلم دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں بھی اسلام آباد کی کوشش ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جائے اور کسی ممکنہ فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔ پاکستان کی یہ حکمت عملی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لئے بھی اہم ہے۔
موجودہ صورتحال میں آئندہ اڑتالیس گھنٹے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر اس دوران سفارتی رابطے مؤثر ثابت ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ کشیدگی میں کمی آئے اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے۔ لیکن اگر سخت بیانات اور طاقت کے مظاہرے جاری رہے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
اس نازک مرحلے پر دنیا کو جذباتی فیصلوں کے بجائے دانشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے۔ طاقت کے اظہار سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر پائیدار امن صرف مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد نے جس توازن اور تدبر کے ساتھ اس بحران میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ اگر پاکستان کی سفارتی کاوشیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں امن کے لئے ایک مثبت پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو بھی مزید معتبر بنائے گی۔
آج جب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے، تو امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے اڑتالیس گھنٹے تصادم کے نہیں بلکہ مفاہمت کے راستے کو ہموار کریں گے—اور شاید اس راستے کی ایک اہم کڑی اسلام آباد کی خاموش مگر مؤثر سفارت کاری بھی ثابت ہو۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضا اور اسلام آباد کی سفارتی آزمائش
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ خلیج کے پانیوں میں اٹھنے والی تازہ کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حال...
Z
Zaheer AwanZ
Zaheer Awan
Journalist and Writer at Saya Digital — covering Pakistan's top stories, opinions, and analysis.
More Stories

ایس پی ایس سی میں مبینہ میرٹ کی پامالی کے خلاف 9 اکتوبر کو کراچی کی جانب پیدل مارچ کا اعلان
4 hr ago
اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کی 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت
16 September 2026
