پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد آج دنیا کی توجہ کا مرکز و محور بنا ہوا ہے۔ وہ جنگ جس سے عالمی امن وسلامتی خطرے میں پڑچکی ہے ، آبنائے ہرمزکی بندش کی وجہ سے تیل کی بین الاقوامی رسد میں معطلی نے دنیا بھر مہنگائی کی آگ کو دو آتشہ کردیا ہے ۔ عالمی حصص بازاروں پر لرزہ طاری ہے ۔ بے یقینی کے بادلوں سے برسنے والے ناامیدی کے اولے کاروبار کی فصل کو ملیا میٹ کررہے ہیں ۔ ایسے وقت میں پاکستان کا ثالث بن کر سامنے آنا اور امیدوں کا محور بن جانا کسی معجزے سے کم نہیں ۔ دنیا کے ممالک بھی سفارت کاری کے اس معجزے سے حیران و پریشان ہیں کہ کس طرح قرضوں میں ڈوبا ، غربت میں جکڑا ملک شاید اس صدی کی خطرناک ترین جنگ کو لڑائی کے محاذ سے مذاکرات کی ٹیبل پر لانے میں کامیاب ہوا ۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی پاکستان گویا دو دھاری تلوار پر چل رہا تھا ۔ ایک جانب برادراسلامی ہمسایہ ملک ایران تھا ۔ جس کے ساتھ پاکستان روزاول سے اخوت کے رشتے میں جڑا ہوا ہے ۔ یہ وہ ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تو دوسری جانب مشکل وقت میں کام آنے والے عرب ممالک تھے، خاص کر سعودی عرب ، جس کے ساتھ چند ماہ قبل پاکستان نے سکیورٹی کا معاہدہ کیا تھا ۔ امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر ایران کے جواب صورت حال کو پاکستان کے لیے مشکل ترین بنارہے تھے ، کسی ایک فریق کی حمایت کرنا امت مسلمہ کے قلعے پاکستان کے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا لیکن وہ کہتے ہیں کہ لگن سچی ہوتو تاریکی میں بھی امید کی کرن پھوٹ سکتی ہے ۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے عرب ملکوں کو ایران کے خلاف سخت ردعمل سے روکے رکھا ۔ مسلسل بات چیت کے ذریعے حکومت کو بھی قائل کیا کہ وہ ہتھ ہولا رکھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سیاست کے کھلاڑیوں چین اور روس سے بھی مشاورت جاری رکھی ۔ امریکا کے غصہ وہ آگ جس پر اسرائیل اشتعال کا تیل ڈال رہا تھا اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے پاکستان نے ہی فائربریگیڈ کا کام کرتا رہا ۔ایک جانب آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرامریکا کو جنگ بندی پر قائل کرتے رہے تو دوسری طرف وزیراعظم پاکستان شہباز شریف ایرانی قیادت کو سمجھانے بجھانے میں لگے رہے ۔ لیکن منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی اور کئی صعوبتیں جھیلنا باقی تھیں ۔
ایران کی جانب سے غیر متوقع شدید مزاحمت ، بھاری جنگی نقصان ، مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں کی محنت کے بعد قائم جنگی اڈوں ، مہنگے ترین راڈاراور سرویلنس سسٹم کی تباہی ، آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش سے ہونے والی سبکی ، تیل کی بڑھتی قیمتوں ، مہنگائی کے طوفان اور سب سے بڑھ کر مخالف ہوتی ہوئی مقامی اور بین الاقوامی رائے عامہ سے زچ ہوکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گالی گلوچ اورگھٹیا زبان کے استعمال پر اتر آئے اور پھر ایرانی تہذیب کو فنا کرنے کا وہ بیان داغ دیا جس سے دنیا بھر کے لیڈروں کی نیندیں حرام ہوگئیں ۔ غرور اور تکبر کے مارے اور جنونی ٹرمپ سے کچھ بعید نہ تھا لیکن بلی کے گلی میں گھنٹی کون باندھتا ۔ جہاں سب ایک قدم پیچھے ہٹے وہیں پاکستان ایک قدم اور آگے بڑھا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیڈ لائن میں توسیع اور امن کو ایک موقع دینے کی اپیل کی ۔ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل چھ اور سات اپریل پاکستان کی سول اور عسکری لیڈر شپ پر انتہائی بھاری تھیں ۔ پوری رات مذاکرات کے دورہوئے ۔ امریکا تو کبھی ایران ، چین تو کبھی روس کو فون کھڑکائے گئے ۔عرب ممالک ، ترکی اور مصر سے بھی مشاورت کی گئی ۔ آخر کار امن کی ان کوششوں کو دوام ملا ، امریکا اور ایران دو ہفتوں کی جنگ بندی پر مذاکرات کے میز پر آنے کے لیے آمادہ ہوگئے۔
ان ساری کاوشوں میں ایک شخص کی تعریف نہ کرنا یقیناً زیادتی ہوگی اور وہ تھے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار ، جنہیں پہلی بار معیشت کے میدان سے ہٹاکر امورخارجہ کا قلم دان ملا تھا ۔ اس جنگ کو رکوانے کیلئے ترکی ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مل کر انہوں نے ہی اسلام آباد میں ہونے والی امن کی اس بڑی بیٹھک کی راہ ہموار کی ۔ پاکستان کی ان کاوشوں کو جہاں عالمی سطح پر سراہا گیا وہیں جنوبی ایشیا میں خطے کے تھانیدار بننے کے دعویدار بھارت کو تو جیسے آگ لگی ہوئی ہے ۔ پاکستان کی کوششوں پر بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے انتہائی گھٹیا ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخلاق سے گری ، سفارتی آداب کے منافی زبان کا استعمال کیا ۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ ہاتھی چلتے رہتے ہیں اور کتے بھونکتے رہتے ہیں ۔ بھارت کا گودی میڈیا کو پاگل پنے کے دورے پڑرہے ہیں اور مسلسل اناب شناب نشر ہورہا ہے ۔ لیکن اس سے پہلے پاکستان کی جانب سے کوئی جواب دیا جاتا بھارت کے ہی غیر جانب دار مبصرین پاکستان کی تعریف و توصیف کررہے ہیں جبکہ مودی سرکار کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں ۔ ہرجگہ یہی پرچار ہورہا ہے کہ اس اہم ترین عالمی مدعے پر ’وشوا گرو‘ کہاں ہیں ۔ اور پھر مودی کے فادر لینڈ اور مادر لینڈ والی چول بھی مذاق کا نشانہ بنی ہوئی ہے ۔
دعا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بیٹھک کامیاب ہو ۔ ایران اور امریکا کے مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی مستقل ہوجائے ۔ نتیجہ کچھ بھی آئے لیکن پاکستان سرخرو ہے کہ دنیا میں امن وسلامتی کو ایک اور موقع دینے اور جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کےلیے اپنے حصے اورجثے سے بڑھ کر کام کیا اورپوری ایمانداری سے کیا ۔



