جو دوست میڈیا سے وابستہ ہیں، انہوں نے "ڈیڈ کیٹ اسٹریٹیجی" یا اردو میں "مردہ بلی کی حکمتِ عملی" کی اصطلاح ضرور سنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دنیا کسی اہم مسئلے پر بحث کر رہی ہو تو اچانک ایسا موضوع اچھال دیا جائے جو لوگوں کی تمام توجہ اصل مسئلے سے ہٹا دے۔ پھر بحث یہ نہیں رہتی کہ ملک کو درپیش بنیادی مسائل کیا ہیں، بلکہ یہ ہونے لگتی ہے کہ مردہ بلی کو کس نے مارا؟ جانوروں کے حقوق کیا ہیں؟ یا بلیوں کے رنگ کتنے ہوتے ہیں؟
محسن نقوی کا نئے صوبوں سے متعلق حالیہ بیان بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ ملک کو اس وقت کشمیر کی صورتحال، بلوچستان میں امن و امان، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، گیس کی قلت اور معاشی بحران جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے، مگر اچانک قومی بحث کا رخ نئے صوبوں کی طرف موڑ دیا گیا۔
تاہم اس معاملے کو محض ایک بیان کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک طویل سلسلے کا حصہ ہے۔ قیامِ پاکستان سے ہی دو متضاد تصورات ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں۔ ایک تصور یہ ہے کہ مضبوط مرکز ہی ریاست کو بچا سکتا ہے، جبکہ دوسرا تصور یہ ہے کہ مضبوط وفاق ہی پاکستان کے استحکام اور بقا کی ضمانت ہے۔
1955ء میں ون یونٹ اسکیم نافذ کی گئی۔ اس کے حق میں دلیل دی گئی کہ اس سے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان برابری قائم ہوگی، کیونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کے تمام صوبوں سے زیادہ تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس سے انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی۔ لیکن عملی نتیجہ یہ نکلا کہ تاریخی صوبے ختم ہوگئے، ان کی شناخت کمزور پڑ گئی اور اختیارات مزید مرکز میں سمٹ گئے۔ 1958ء میں جنرل ایوب خان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی یہی پالیسی جاری رہی۔ بالآخر 1970ء میں ون یونٹ ختم کر دیا گیا، مگر اس وقت تک مشرقی پاکستان میں سیاسی بے اعتمادی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ اگلے ہی سال ملک ٹوٹ گیا۔
تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔ بعد کے مختلف ادوار میں بھی مختلف دلائل کے ساتھ صوبوں کی سیاسی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔ جنرل ضیاء الحق ہوں یا جنرل پرویز مشرف، دونوں نے بلدیاتی نظام کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ منتخب صوبائی حکومتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ضلعی سطح پر ایسے انتظامی ڈھانچے قائم کیے گئے جو بڑی حد تک وفاقی سرپرستی میں کام کرتے تھے۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو کسی اچانک پیدا ہونے والے خیال کے بجائے پاکستان میں مرکزیت اور وفاق کے درمیان جاری تاریخی کشمکش کا تسلسل سمجھنا چاہیے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد پہلی مرتبہ مضبوط وفاق کے تصور کو عملی شکل ملی۔ مشترکہ فہرست (Concurrent List) ختم کر دی گئی اور اس کے بیشتر اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے، جس سے صوبائی خودمختاری کو آئینی تحفظ حاصل ہوا۔ این ایف سی ایوارڈ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160(3A) کے مطابق آئندہ کسی بھی این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا مجموعی حصہ گزشتہ ایوارڈ سے کم نہیں کیا جا سکتا۔
بدقسمتی سے آئین کی اس روح پر بھی مکمل عمل نہیں ہو سکا۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد نیا ایوارڈ آنا چاہیے تھا، مگر آج تک یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ نتیجتاً آج بھی پرانے فارمولے پر عمل ہو رہا ہے، حالانکہ اس میں بہتری کی خاصی گنجائش موجود ہے، خصوصاً آبادی کو دیے گئے وزن کے حوالے سے، جس کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو حاصل ہوتا ہے۔
ایسی صورتحال میں جب نئے صوبوں کی بحث سامنے آتی ہے تو بہت سے لوگوں کو یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ بحث اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے مضبوط ہونے والی صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنے کے کسی بڑے سیاسی منصوبے کا حصہ تو نہیں۔ اگر وفاق کو مالی مسائل درپیش ہیں تو ان کا حل صوبوں کے اختیارات کم کرنا نہیں بلکہ وفاق کے مالیاتی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔
جیسا کہ متعدد وفاقی ماہرین کہتے ہیں، پاکستان وفاقی اکائیوں سے مل کر بنا ہے؛ وفاق نے صوبے پیدا نہیں کیے بلکہ صوبوں نے وفاق کی بنیاد رکھی۔ اسی لیے میری نظر میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی یہاں ایک سیاسی غلطی کی۔ 1973ء کے آئین میں نئے صوبے بنانے کی آئینی گنجائش ضرور رکھی گئی، اگرچہ اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت لازمی قرار دی گئی۔ لیکن اگر صوبے ہی وفاق کے خالق ہیں تو پھر کسی تاریخی صوبے کی جغرافیائی سالمیت تبدیل کرنے کی آئینی گنجائش آخر کیوں رکھی گئی؟ میرے خیال میں یہ سوال آج بھی بحث طلب ہے۔
آخر میں بھارت کی مثال بار بار پیش کی جاتی ہے، مگر اکثر آدھی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔ بھارت میں زیادہ تر نئی ریاستیں لسانی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہوئیں۔ آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور گجرات اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ کچھ ریاستیں، جیسے جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور اتراکھنڈ، علاقائی مطالبات اور انتظامی ضروریات کی بنیاد پر وجود میں آئیں، جبکہ تلنگانہ تقریباً پینتالیس برس کی سیاسی جدوجہد، مختلف کمیشنوں، پارلیمانی مباحث اور آئینی عمل کے بعد معرضِ وجود میں آیا۔ یعنی بھارت میں بھی نئی ریاستیں کسی بیوروکریٹ کی خواہش یا محض ایک بیان کے نتیجے میں نہیں بنیں۔
جہاں تک بڑے صوبوں کا تعلق ہے تو یہ دلیل بھی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ دنیا میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں بڑے وفاقی یونٹ چھوٹے یونٹوں سے زیادہ خوشحال ہیں۔ امریکہ کی کیلیفورنیا، کینیڈا کی اونٹاریو اور بھارت کی مہاراشٹر جیسی بڑی وفاقی اکائیاں فی کس آمدنی اور معاشی کارکردگی میں کئی چھوٹی اکائیوں سے آگے ہیں۔ پاکستان میں بھی پنجاب، جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، کئی معاشی اشاریوں میں چھوٹے صوبوں سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی صوبے کا بڑا یا چھوٹا ہونا نہ تو براہِ راست غربت سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اچھی یا بری حکمرانی سے۔
اگر واقعی مسئلہ انتظامی کارکردگی کا ہے تو پھر صرف صوبوں کی تقسیم کی بات کیوں کی جاتی ہے؟ کراچی کے بارے میں بھی اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا شہر ہے۔ پھر اسے انتظامی بنیادوں پر دو یا تین حصوں میں تقسیم کر کے نئی ڈویژنیں یا میٹروپولیٹن یونٹس بنانے پر بحث کیوں نہیں ہوتی؟ اگر دلیل صرف آبادی اور رقبہ ہے تو پھر یہی اصول ہر جگہ یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ خراب حکمرانی کا تعلق جغرافیائی حجم سے نہیں بلکہ حکمرانی کے معیار سے ہے۔ جمہوریت کی کمزوری، شفاف انتخابات کا نہ ہونا، آئین اور قانون کی بالادستی کا فقدان، اداروں کی کمزوری، مالی بدانتظامی اور کرپشن وہ بنیادی مسائل ہیں جو کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے سے حل نہیں ہوتے۔
اس لیے ناکام ثابت ہونے والے مضبوط مرکز کے تصور کی طرف واپس جانے کے بجائے مضبوط وفاق کے تصور کو آگے بڑھانا چاہیے، کیونکہ پاکستان کا وفاق اپنی وفاقی اکائیوں کی رضامندی سے وجود میں آیا ہے۔ بلوچستان سمیت ملک کو درپیش کئی مسائل کا حل مزید مرکزیت میں نہیں بلکہ حقیقی صوبائی خودمختاری، آئینی وفاق اور جمہوری اداروں کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔
لہٰذا اصل سوال نئے صوبے نہیں بلکہ پاکستان کی وفاقی روح کا مستقبل ہے۔ اگر ہر بار عوام کے سامنے ایک "مردہ بلی" پھینک کر ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی جائے گی تو نہ حکمرانی بہتر ہوگی، نہ وفاق مضبوط ہوگا اور نہ ہی پاکستان کے بنیادی مسائل حل ہو سکیں گے۔




