راولاکوٹ میں حالیہ واقعات نے ایک بار پھر انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ کا سلسلہ جاری ہے، اور اس جنگ میں غیر ملکی ہاتھوں کا کردار روز بروز واضح ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو "عوامی بغاوت" قرار دینے کی کوشش کی گئی، وہیں گرفتار ملزمان کے اعترافات اور موقع سے برآمد ہونے والے جدید اسلحے نے ثابت کر دیا کہ یہ کوئی عام احتجاج نہیں تھا، بلکہ ایک منصوبہ بند دہشت گردی کی کارروائی تھی ۔ گرفتار ملزم محمد عابد نے تحقیقات کے دوران اعتراف کیا کہ وہ ممنوعہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے مسلح ونگ سے وابستہ ہے اور اسے تقریباً دو ہفتے قبل بیرون ملک سے اس مقصد کے لیے لایا گیا تھا ۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ ایک تربیت یافتہ سنائپر ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس احتجاج میں پیشہ ورانہ طور پر تربیت یافتہ مسلح عناصر موجود تھے ۔ عابد نے یہ بھی بتایا کہ ۱۰۰ سے ۱۵۰ مسلح افراد اب بھی مختلف مقامات پر تعینات ہیں ۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ملزم ذہیب خالد کے قبضے سے امریکی ساختہ ایم فور رائفل برآمد ہوئی ، جس سے یہ ثابت ہوا کہ اس احتجاج میں جدید اسلحہ بھی استعمال کیا جا رہا تھا اور ممنوعہ تنظیم کسی "مخصوص ایجنڈے" کے تحت کام کر رہی ہے ۔ راولاکوٹ پولیس نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق رکھنے والے ملزم عرفان کو گرفتار کیا ، جس نے اعتراف کیا کہ اسے جون ۲۰۲۵ میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور اسے حساس مقامات کی ویڈیو بنانے کی ہدایت کی گئی ۔ ملزم عرفان نے یہ بھی بتایا کہ وہ حساس مقامات کی ریکارڈنگ کرتا تھا اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر ملکی ہینڈلرز کو بھیجتا تھا ۔
ممنوعہ تنظیم کی طرف سے جھوٹا پروپیگنڈا بھی کیا گیا، جس میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل کی گئی جس میں تنظیم کے کارکنان اپنے جسموں پر سرخ رنگ لگا کر مردہ ہونے کا ڈرامہ کر رہے تھے ۔ ایس ایس پی خاور علی شوکت نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار ملزمان سے بھاری اسلحہ برآمد ہوا ہے، جس میں امریکی ساختہ خودکار اسلحہ بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ممنوعہ تنظیم کسی "مخصوص ایجنڈے" کے تحت کام کر رہی ہے ۔ آئی جی پولیس لیاقت علی ملک نے بتایا کہ ملزم حساس مقامات کی ریکارڈنگ کرتا تھا اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر ملکی ہینڈلرز کو بھیجتا تھا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم عرفان کو آن لائن ملازمت کی پیشکش کی گئی اور بعد ازاں اسے واٹس ایپ کے ذریعے حساس مقامات کی ویڈیو بنانے کی ہدایت کی گئی ۔ آئی جی پولیس نے والدین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، کیونکہ دشمن عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں ۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ راولاکوٹ میں تشدد پہلے سے منصوبہ بند تھا ۔ ممنوعہ تنظیم کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا انعام رینجرز یا پولیس اہلکار کو مارنے کے لیے مقرر کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ ان تمام حقائق سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ کا سلسلہ جاری ہے اور غیر ملکی ایجنسیاں اپنے مقامی پراکسیوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی فائرنگ کے باوجود غیر معمولی تحمل اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور شہریوں کی جانوں کی حفاظت کی، جبکہ صرف مسلح عناصر کو نشانہ بنایا ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں اور دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہونے کے بجائے اپنے ملک اور فوج کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ جیسا کہ شہباز شریف نے کہا تھا، پاکستان کو ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے اور اس جنگ کا مقصد پاکستان کی معیشت اور سیاسی استحکام کو تباہ کرنا ہے ۔




