کراچی: سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے 7 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشنرز مستفید ہوں گے۔
حکومت نے نجی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے بھی کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد محنت کش طبقے کی آمدنی میں اضافہ اور بہتر معیارِ زندگی کو یقینی بنانا ہے۔
بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ بجٹ عوامی فلاح، معاشی استحکام اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے عوامی توقعات کے مطابق نہ قرار دیا، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
Tags: سندھ بجٹ 2026-27، تنخواہوں میں اضافہ، پنشن میں اضافہ، کم از کم اجرت، مراد علی شاہ، سندھ اسمبلی، سرکاری ملازمین، سندھ نیوز۔

