کراچی: سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایوان کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن اراکین نے حکومت پر عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے اور بجٹ میں حقیقی ریلیف فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پیش کیا گیا بجٹ مہنگائی، بے روزگاری، پانی کی قلت اور شہری مسائل کے حل میں ناکام رہے گا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تقسیم میں شفافیت کا فقدان ہے اور عوامی ضروریات کے مطابق ترجیحات کا تعین نہیں کیا گیا۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور اعلان کیا کہ وہ بجٹ کی موجودہ شکل کو قبول نہیں کرتے۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت بجٹ پر نظرثانی کرے اور عوامی مفاد میں ضروری ترامیم شامل کرے۔
دوسری جانب حکومتی اراکین نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے اسے صوبے کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تمام شعبوں کے لیے متوازن فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں سے صوبے بھر کے عوام مستفید ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جبکہ بجٹ تجاویز پر اسمبلی میں تفصیلی بحث بھی متوقع ہے

