کراچی: ایران امریکا جنگ بندی کےلیے بہترین سفارت کاری اور جان ہتھیلی پر رکھ کر جنگ زدہ ایران کا دورہ کرنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام بین الاقوامی سطح پر جگمگا رہا ہے لیکن پاکستانیوں کے لیے قابل فخر یہ بات ہے کہ وہ پہلے پاکستانی نہیں جنہوں نے یہ جوکھم اٹھایا ۔ ان سے پہلے شہید جمہوریت بے نظیر بھٹو بطوروزیراعظم پاکستان ایسا ہی کارنامہ انجام دے چکی ہیں ۔ انہوں نے ترک وزیراعظم تانسو چیلر کے ساتھ 3 فروری 1994 کو جنگ کے دوران بوسنیا کا دورہ کیا تھا ۔
بوسنیائی جنگ ایک بین الاقوامی مسلح تنازع تھا جو بوسنیا اور ہرزیگووینا میں 1992اور1995 کے درمیان ہوا تھا۔ بوسنیا میں تین سال سے جنگ جاری تھی اورسابق یوگوسلاویہ کی نسل پرست سرب افواج نہتے مسلمانوں کی زندگیوں سے خونیں کھیل کھیل رہی تھی ۔ ایک لاکھ بے گناہ مسلمان شہید اورلاکھوں گھربارچھوڑکرہجرت کر چکے تھے۔ ہزاروں مسلمان خواتین کی عصمت دری ہوئی ۔ ان گنت افراد کو عقوبت خانوں میں اذیتیں دی جا رہی تھیں اور کئی مقامات پریہ ظلم عالمی امن فوج کی موجودگی کے باوجود ہورہا تھا ۔ نومولود مسلم اکثریتی ملک کے دارالحکومت سرائیوو کے محاصرے کو دو سال ہو چکے تھے اورزندگی پر موت کے سائے گہرے ہوتے چلے جارہے تھے ۔
چالیس لاکھ آبادی کے ملک میں مسلمانوں کی کل آبادی اٹھارہ لاکھ تھی لیکن نام نہاد انصاف اورانسانی حقوق کے داعی مغربی ممالک کی کوشش تھی کہ ان کو پچاس پچاس ہزاریا ایک لاکھ کی تعداد میں مختلف یورپی ممالک میں پناہ کے نام پرکھپا دیا جائے ۔ اوراس طرح یورپ کے قلب میں ایک مسلم اکثریتی ملک کا نام و نشاں ہی مٹادیا جائے ۔ کوئی عالمی طاقت یا حکمران کمزوربوسنیائی مسلمانوں کے لئے آواز بلند کرنے کو تیار نہیں تھا۔
ایسے میں محترمہ بےنظیر بھٹو نے بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے سرائیوو جانے کا فیصلہ کیا، انہوں نے ترک وزیراعظم محترمہ تانسوچیلرکواعتماد میں لیا ۔ اکٹھے جانے کا فیصلہ کیا ۔ دونوں نے اپنے ارادے سے اقوامِ متحدہ کو آگاہ کیا تو کھلبلی مچ گئی ۔ ان دونوں دلیر خواتین کو ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ سرائیوو ائیرپورٹ سربوں کے محاصرے میں ہے آپ کے جہاز کو گرایا جا سکتا ہے ۔ شہرمیں ہرطرف سرب فوج کے نشانچی موجود ہیں ۔ شہرمیں خون خرابہ ہورہا ہے آپ دونوں پر قاتلانہ حملہ بھی ہوسکتا ہے لیکن مسلم دنیا کی یہ دونوں ہرعزم خواتین رہنما سرائیوو جانے کے فیصلے پرشدت سے قائم رہیں۔

دنیا کو اب یہ خطرہ درپیش ہوگیا کہ پاکستان اور ترکی دو عظیم ملک ہیں اگر ان کی وزرائے اعظم کے ساتھ کوئی حادثہ یا اونچ نیچ ہوگئی تو پوری دنیا کسی عالمی جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔ اس خطرے کا احساس ہونے کے بعد امریکا ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے جارح سربوں کو سخت پیغام دیا گیا ۔ انہیں کسی متوقع جارحیت کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے بازرہیں۔
3 فروری 1994 کا وہ تاریخ ساز دن تھا جب پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بےنظیر بھٹو اور ترک وزیراعظم محترمہ تانسو چیلربوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو پہنچیں ۔ مسلمان شہریوں نے امت مسلمہ کی ان دو بیٹیوں کا والہانہ استقبال کیا۔ انہوں نے بوسنیا کے صدر عالی جاہ عزت بیگ اور ستم زدہ عوام سے ملاقات کی ۔ انہیں یقین دلایا کہ وہ تنہا نہیں پاکستان اورترکی ہر طرح ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
اس دورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بوسنیا کا مسئلہ اوروہاں مسلمانوں کا قتلِ عام عالمی طورپرنمایاں ہوکرسامنے آیا۔ خواب خرگوش کے مزے لوٹتے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑگیا۔ اس دبائو کے نتیجے میں امریکی صدر بل کلنٹن نے امریکی افواج کو سرب ٹھکانوں پرگولہ باری اوران کی جارحیت محدود کرنے کے احکامات جاری کیے ۔ اس کے بعد بوسنیا کو خوراک ، اسلحہ اور امداد کی فراہمی ممکن ہوپائی ۔
ان اقدامات سے نوزائیدہ بوسنیائی حکومت کو سانس لینے۔ اپنی پولیس اور آرمی قائم کرنے کا وقت اورموقع ملا ۔ 1995 میں سہہ فریقی امن معاہدہ طے پایا جس کی بدولت بوسنیا ہرزیگوینا بطور ملک یورپ کے قلب میں اپنی مسلم اکثریتی آبادی کے ساتھ قائم و دائم رہنے میں کامیاب ہوپایا ۔ اگر بےنظیر بھٹو ہمت نا کرتیں اور ترک وزیراعظم کو ساتھ لے ان سنگین حالات میں بوسنیا کا دورہ نا کرتیں تو بوسنیا ہرزیگوینا کا آج وجود نہ ہی وہاں مسلمان ہوتے۔


