Latest News & Article

Post: صومالی قزاقوں کی قید میں پاکستانی عملہ، 57 روز بعد بھی رہائی نہ مل سکی

صومالی قزاقوں کی قید میں پاکستانی عملہ، 57 روز بعد بھی رہائی نہ مل سکی

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی عملے کے ارکان نے حکومت سے فوری اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

جہاز MT Honour 25 پر موجود 17 افراد کے عملے میں 10 پاکستانی شامل ہیں، جنہیں 21 اپریل کو صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ کے قریب قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔

سامنے آنے والی ایک نئی ویڈیو میں جہاز کے سیکنڈ افسر سید کاشف عمر نے بتایا کہ پاکستانی عملہ 57 دن سے قید ہے، کھانے کی کمی کا سامنا ہے جبکہ کچھ افراد بیمار بھی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جہاز کے مالک کو قزاقوں سے مذاکرات کے لیے آمادہ کیا جائے تاکہ یرغمالیوں کی جلد رہائی ممکن ہو سکے۔

جہاز کے انڈونیشین کپتان نے بھی اپنی حکومت سے عملے کی رہائی کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق حکومت پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے، تاہم اب تک کسی بھی یرغمالی کو رہا نہیں کرایا جا سکا۔

ذرائع کے مطابق جہاز اب بھی صومالی ساحل کے قریب موجود ہے جبکہ قزاقوں سے مذاکرات جاری ہیں۔ قزاقوں نے ابتدائی طور پر ایک کروڑ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا، جو بعد میں کم کرکے 40 لاکھ ڈالر کر دیا گیا، تاہم مذاکرات میں ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

یرغمالیوں کے اہلخانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کوششیں مزید تیز کرے تاکہ ان کے پیاروں کو بحفاظت وطن واپس لایا جا سکے۔

صومالیہ کے ساحل پر بحری قزاقی کا مسئلہ ماضی میں بھی سنگین رہا ہے، تاہم عالمی بحری نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے بعد اس میں کمی آئی تھی۔ حالیہ عرصے میں خطے میں دوبارہ حملوں میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn