نیویارک : امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی مذاکرات کار قیادت سے سپریم لیڈر سے پیغام رسانی میں مشکلات دوچارہیں، جس کی وجہ سے ان سے مشاورت کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ توقع ہے کہ ایران آئندہ چند روز میں امریکا کو نئی تجاویزپیش کرے گا۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایران نے ثالثوں کو بتایاکہ نظر ثانی شدہ تجاویز پر سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن درکار ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی تجاویز مسترد کرنے کے صدر ٹرمپ کے اشارے کے بعد پاکستانی ثالثوں کو جنگ بندی کی نئی ایرانی تجاویز ملنے کا امکان ہے۔ سفارتکاری کے تسلسل اور پاکستان کی پائیدار امن کے لیے کوششوں نے فریقین کو بات چیت کے ذریعے ہی کسی مستقل حل کی جانب بڑھنے پر مجبور کر دیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے ثالثوں کو بتایاکہ نظر ثانی شدہ تجاویز پر سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن درکار ہیں۔مجتبی خامنہ ای سے رابطوں میں مشکلات کے باعث تبادلہ خیال کا یہ عمل سست ہوگا، مجتبی خامنہ ای تاحال کسی خفیہ مقام پر ہیں۔سی این این کی رپورٹ کےمطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی تہران آمدپرنئی تجاویزپرقیادت سےمشاوت کریں گے اور اس کے بعد ایران آئندہ چندروزمیں جنگ کےخاتمےکیلئےنئی تجاویزپیش کرےگا۔
سی این این کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا ایران جتنے دور نظر آرہے ہيں اتنے ہیں نہيں ، پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان بھرپور سفارت کاری چل رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات اپنی مخصوص رفتار سے جاری ہیں اور آگے بڑھنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایران کب ایسی تجاویز پیش کرتا ہے جو امریکا کو قبول ہوں۔ یاد رہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو تجویز میں آبنائے ہُرمز کھولنے کی پیشکش امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے ساتھ مشروط کی ہے اور کہا ہے یہ سب ہوجائے تو پھر ایرانی ایٹمی پروگرام پر بات ہوگی

