اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جو ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات کے بعد دنیا بھر کے میڈیا اور سوشل میڈیا میں خبروں کی زینت بنا ہوا ہے وہیں ایک اور خبر بھی ہیڈ لائنز کی زینت بنی ۔ جو وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں ۔ مزار حضرت بری امام کے قریب محلہ نورباغ نورپور شاہاں سے متعلق تھی ۔ جہاں چودہ اپریل کو سی ڈی اے کی جانب سے مبینہ غیر قانونی مکانات گرانے کے لیے آپریشن کیا گیا ۔ لیکن مکینوں نے زبردست مزاحمت کی ۔ سرکاری گاڑیاں نذرآتش کردیں ، ہنگامہ آرائی میں کئی اہلکار زخمی ہوئے کئی مقامی افراد بھی لہولہان ہوئے ۔ پولیس نے ہنگامہ ، بلوہ ، اقدام قتل ، سرکاری امور میں مداخلت ، سرکاری اہلکاروں پر حملے سمیت دیگر الزامات کے تحت وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے افسر کی مدعیت میں درجنوں معلوم ونامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران درجنوں ملزموں کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔

سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ’ نور باغ میں احتجاج کرنے والےمکین غیر قانونی طور پر عرصے سے یہاں رہائش پذیر ہیں ۔ اس اراضی کی کوئی حیثیت ہے نہ ہی یہاں سے پراپرٹی ٹیکس جمع ہوتا ہے ۔ اس جگہ پراب ترقیاتی کام شروع ہونے جارہے ہیں اس لیے اسے غیرقانونی رہائش پذیر افراد کو خالی کرایا جارہا ہے ۔ سی ڈی اے کے مطابق منگل یعنی چودہ اپریل کو آپریشن کے دوران 60 کنال زمین وا گزار کرائی گئی جبکہ مجموعی طور پر مسلم کالونی سمیت دیگر علاقوں میں اب تک 600 ایکڑزمین وا گزار کروائی جا چکی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ آپریشن راتوں رات نہیں کیا گیا ۔ تین ماہ پہلے نوٹسز دیے گئے تھے جبکہ تجاوزات پر مارکنگ کرکے بینرز آویزاں کیے گئے تھے۔ سی ڈی اے نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بہت سے مقامی افراد اس جگہ کی ملکیت کا دعویٰ لے کر ہائی کورٹ سمیت متعدد عدالتوں میں گئے مگر تمام فیصلے اُن کے خلاف آئے اور تمام تر قانونی کارروائیاں پوری کرنے کے بعد یہ آپریشن کیا گیا۔

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’غیر قانونی اسٹرکچرز پورے اسلام آباد سے ختم کرنے کے لیے احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تیزی سے کام جاری ہے۔‘ اُن کے مطابق ’عدالتی احکامات کے بعد جب قبضہ چھڑوانے کے لیے ٹیمیں وہاں گئیں تو قانون نافڈ کرنے والوں پر حملہ کیا گیا جس میں اہلکار زخمی ہوئے جبکہ سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔‘ انھوں نے ہپ دعویٰ بھی کیا کہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں اس زمین کے عوض معاوضہ لینے کے باوجود جگہ خالی کرنے سے انکاری ہیں ۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا تجاوزات نے اسلام آباد کی گرین لینڈ کو ’براؤن لینڈ‘ میں بدل دیاہے ۔ حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ پورے اسلام آباد سے اس نوعیت کے غیرقانونی کام کا خاتمہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب ۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ اس جگہ کے قانونی مالک ہیں جسے سی ڈی اے طاقب کے بے جا استعمال کے ذریعے ان سے خالی کرانا چاہتی ہے۔

پہاڑوں کے دامن میں واقع دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں شمار کیے جانے والے اسلام آباد کو ویژن 2027 کے نام سے پہلا اسمارٹ سٹی بنائے جانے کا ایک منصوبہ زیرغور ہے۔ بی بی سی کے مطابق اس منصوبے میں پانی، سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگائے جانے سمیت دیگر ایسے منصوبوں پر کام کیا جانا شامل ہے جس کی بدولت سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع میسرآسکیں۔ حکام کے مطابق ’ویژن 2027 کے نام سے منسوب اس منصوے کو دو سے تین سال تک پایہ تکمیل پہنچانے کا عزم ہے تاہم امریکہ ایران جنگ اور اس کے بعد پاکستان کے رول کے باعث اس منصوبے کو ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا جا سکا۔‘ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز قبل کراچی چیمبرآف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اسلام آباد میں پرائم منسٹر ہاؤس کے عقب اورمارگلہ کے پہاڑوں کے ساتھ ایک جگہ ہے، جسے ہم شنگھائی اورمین ہٹن کے طرز پرتعمیرکرنے جارہے ہیں جہاں بلند و بالا عمارتیں ہوں گی۔ وہ ایک نیا شہربننے جارہا ہے جہاں کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کے لیے بہترین مواقع ہیں۔
اربن ڈیولپمنٹ کے ماہرین کہتے ہیں ۔ اسلام آباد میں تجاوزات کےنام پر آپریشن کوئی نئی بات نہیں، یہ ہر چند سال کے بعد ایسی لہر آتی ہے جس میں سی ڈی اے ایسا آپریشن کر گزرتی ہے۔ شہر میں کئی تو کچی آبادیاں ہیں ۔ جہاں سی ڈی اے نے خود سینیٹری ورکرز سمیت محنت کش طبقے کو آباد کیا تھا لیکن بہت سی آبادیاں ایسی ہیں جہاں اسلام آباد بننے سے پہلے کے گاؤں آباد ہیں۔ سی ڈی اے انکروچمنٹ کے نام پر آبادیاں تو گرارہی ہے لیکن اس بات کا جواب نہیں دے رہی کہ محنت کش خاندانوں کی رہائش کے لیے اسلام آباد میں کون سے منصوبے بنائے گئے ہیں۔


