تاریخ کا ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید سبق یہ ہے کہ جو شخص اپنے عہد میں علم، شعور اور اصلاح کی شمع روشن کرتا ہے، اسے سب سے پہلے اپنے ہی معاشرے کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی نیت پر شبہ کیا جاتا ہے، اس کے خلاف فتوے صادر ہوتے ہیں، اس کی کردار کشی کی جاتی ہے اور بعض اوقات اسے مذہب کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد یہی شخص قوم کا محسن، رہنما اور معمارِ مستقبل تسلیم کیا جاتا ہے۔ سندھ کی تاریخ میں اگر اس حقیقت کی سب سے روشن مثال کوئی ہے تو وہ خان بہادر حسن علی آفندی ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب کراچی اور سندھ کے بازاروں میں ان کے خلاف یہ طنزیہ شعر پڑھا جاتا تھا:“او حسن علی وکیل،تجھے خدا کرے ذلیل۔

”یہ محض ایک شعر نہیں تھا بلکہ اس دور کی فکری تاریکی، تنگ نظری اور جہالت کا آئینہ تھا، جس سے حسن علی آفندی برسوں نبرد آزما رہے۔

آج جنہیں سندھ میں جدید تعلیم کے بانی، مسلمانوں کے عظیم محسن اور “سرسیدِ سندھ” یا “سرسیدِ ثانی” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے،

انہیں اپنے ہی عہد میں “کافر”، “انگریزوں کا ایجنٹ” اور “دین دشمن” قرار دیا گیا۔ ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے کو طنزاً “مدرسۃ الشیاطین” کہا جاتا تھا، صرف اس لیے کہ وہاں انگریزی زبان اور جدید علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔اس زمانے میں سندھ کے ایک بڑے طبقے کا یہ تصور تھا کہ انگریزی زبان سیکھنے والا نوجوان اپنے مذہب، تہذیب اور روایات سے دور ہو جائے گا۔ چنانچہ لوگوں کو سندھ مدرستہ الاسلام سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی، والدین کو خوفزدہ کیا جاتا اور مختلف فتووں کے ذریعے اس ادارے کی مخالفت کی جاتی۔اس داستان کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ جدید تعلیم کے سب سے بڑے مخالف وہ بااثر جاگیردار، وڈیرے اور رئیس تھے جو اپنے بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ، الٰہ آباد اور برصغیر کے دوسرے ممتاز تعلیمی اداروں میں بھیجتے تھے، مگر سندھ کے غریب مسلمانوں کے لیے جدید تعلیم کے دروازے کھلتے دیکھنا انہیں گوارا نہ تھا۔ادھر برطانوی دور میں سندھ کا معاشرتی اور انتظامی ڈھانچہ تیزی سے بدل رہا تھا۔ انگریزی زبان عدلیہ، تجارت، سرکاری ملازمتوں اور انتظامیہ کی بنیاد بن چکی تھی۔ ہندو برادری نے حالات کا بروقت ادراک کیا اور جدید تعلیم حاصل کرکے سرکاری اداروں، عدالتوں اور کاروباری میدان میں نمایاں مقام حاصل کر لیا، جبکہ مسلمان قدامت پسندی، بے جا اندیشوں اور تعلیمی پسماندگی کے باعث مسلسل پیچھے رہتے گئے۔ نتیجتاً معاشی بدحالی، بے روزگاری اور احساسِ محرومی ان کا مقدر بنتا چلا گیا۔حسن علی آفندی نے اس صورتِ حال کو نہایت گہری بصیرت سے دیکھا۔ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی غلامی صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ جہالت سے بھی قائم رہتی ہے۔ ان کا یقین تھا کہ اگر سندھ کے مسلمان جدید سائنس، قانون اور انگریزی زبان سے محروم رہے تو وہ ہمیشہ دوسروں کے محتاج رہیں گے۔14 اگست 1830ء کو حیدرآباد سندھ کے ایک معزز میمن اخوند خاندان میں پیدا ہونے والے حسن علی آفندی نے ابتدائی تعلیم قرآنِ مجید، عربی اور فارسی میں حاصل کی، مگر جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ صرف روایتی تعلیم قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ انہوں نے انگریزی سیکھی، قانون کی تعلیم حاصل کی اور اپنی غیر معمولی صلاحیت کے باعث سندھ کے ممتاز مسلم قانون دانوں میں شمار ہونے لگے۔ بعدازاں وہ پبلک پراسیکیوٹر کے منصب تک بھی پہنچے۔

۔1843ء میں سندھ پر برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعدنئے قوانین اور جدید تعلیمی نظام نے جنم لیا، مگر مسلمان اس تبدیلی کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے بجائے اس سے دور ہوتے گئے۔ حسن علی آفندی نے اس بحران کو محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا سوال سمجھا۔اسی سوچ نے انہیں سر سید احمد خان کی اصلاحی تحریک سے قریب کیا۔ علی گڑھ کے تعلیمی ماڈل سے متاثر ہو کر انہوں نے سندھ میں بھی ایک ایسے ادارے کا خواب دیکھا جہاں دینی اقدار اور جدید علوم ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔بالآخر یکم ستمبر 1885ء کو کراچی میں سندھ مدرستہ الاسلام وجود میں آیا۔اس عظیم درس گاہ کی مرکزی عمارت آٹھ ایکڑ رقبے پر قائم ہے۔ اس کا سنگِ بنیاد 14 نومبر 1887ء کو وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن نے رکھا، جبکہ اس کا خوبصورت گوتھک طرزِ تعمیر کراچی میونسپلٹی کے انجینئر جیمس اسٹریجن کا شاہکار ہے۔ ادارے کے احاطے میں قائم حسن علی آفندی لائبریری اور تاریخی تالپور ہاؤس بھی اس کی علمی اور ثقافتی عظمت کے امین ہیں۔ لائبریری میں بیس ہزار سے زائد کتب، جن میں نادر و نایاب علمی ذخیرہ بھی شامل ہے، محفوظ ہیں، جبکہ جناح میوزیم میں قائداعظم محمد علی جناح اور ادارے سے وابستہ ممتاز شخصیات کی یادگار اشیاء رکھی گئی ہیں۔

برطانوی دور میں قائم ہونے والی یہ صرف ایک درسگاہ نہیں تھی بلکہ سندھ کے مسلمانوں کی نئی فکری بیداری کی بنیاد تھی۔ یہاں قرآن و دینیات کے ساتھ انگریزی، ریاضی، سائنس، سندھی، اردو اور گجراتی کی تعلیم دی جاتی تھی، جبکہ اس کے دروازے مذہب، ذات اور طبقاتی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر طالب علم کے لیے کھلے تھے۔حسن علی آفندی کا اصل کارنامہ صرف ایک عمارت تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا تھا جو وقت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے اہلِ خیر سے وسائل جمع کیے، بہترین اساتذہ کا انتخاب کیا، نصاب مرتب کیا اور اپنی پوری زندگی اس ادارے کی آبیاری میں صرف کر دی۔

ان کی دوراندیشی کا سب سے روشن ثبوت یہ ہے کہ اسی ادارے نے بعد میں ایسی شخصیات پیدا کیں جنہوں نے برصغیر اور پاکستان کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔علی گڑھ کالج کے بعد یہ برصغیر کے مسلمانوں کا دوسرا جدید تعلیمی ادارہ تھا، جس نے سندھ سمیت پورے برصغیر کے مسلمانوں میں جدید تعلیم کا شعور پیدا کیا۔ اس درس گاہ نے قائداعظم محمد علی جناح، علامہ آئی آئی قاضی، علامہ عمر بن داؤد پوتہ، اے کے بروہی، محمد ابراہیم جویو، جسٹس سجاد علی شاہ، رسول بخش پلیجو، عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، سہیل رعنا، فلم اسٹار ندیم، احمد علی چھاگلہ، حنیف محمد اور متعدد نامور سیاست دانوں، قانون دانوں، ادیبوں، دانشوروں اور ماہرین کو جنم دیا، جنہوں نے قیامِ پاکستان اور تعمیرِ وطن میں نمایاں کردار ادا کیا۔

۔حسن علی آفندی اس حقیقت پر یقین رکھتے تھے کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ تعلیمی اداروں سے بنتی ہیں، اور قوموں کی حقیقی آزادی علم کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں ایک ایسے ادارے کی تعمیر پر صرف کر دیں جس کی روشنی آج بھی ڈیڑھ صدی بعد پورے ملک کو منور کر رہی ہے۔20 اگست 1895ء کو یہ عظیم معمارِ تعلیم اس دنیا سے رخصت ہو گیا، لیکن اس کا لگایا ہوا علمی پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ سندھ مدرستہ الاسلام آج بھی پاکستان کی ممتاز علمی درسگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور جامعہ کی حیثیت سے ہزاروں طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے۔

1982ء میں، کراچی کے مصروف ترین کاروباری مرکز میں واقع سندھ مدرستہ الاسلام کی اس عظیم الشان تاریخی عمارت کو پہلی بار قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ اس کی عمارت کےایک جانب حبیب بینک پلازہ اور دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس کی تاریخی عمارت کے بالمقابل اپنی علمی عظمت اور تاریخی وقار کے ساتھ ایستادہ ہے۔ اس کے سرخ و زرد رنگوں سے مزین طرزِ تعمیر، بلند و بالا محرابیں اور پُرشکوہ در و دیوار ماضی کی ایک روشن داستان سناتے محسوس ہوتے تھے۔ان دنوں میں ایس ایم سائنس کالج کا طالبِ علم تھا۔ کالج کے پرنسپل نامور ماہرِ تعلیم پروفیسر حشمت لودھی تھے، جن کی علمی بصیرت اور انتظامی صلاحیتیں اہلِ علم میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ اساتذۂ کرام میں پروفیسر نعیم الدین، پروفیسر ایس۔ ایم۔ سلیم ، پروفیسر اشرف شیر اور پروفیسر شرافت حسین جیسے جید اور باوقار اساتذہ شامل تھے، جن کی تدریس نے نہ صرف علمی افق کو وسعت بخشی بلکہ شخصیت کی تعمیر میں بھی گراں قدر کردار ادا کیا۔ آج بھی ان عظیم اساتذہ کی یادیں اور سندھ مدرستہ الاسلام کی وہ پہلی دلکش جھلک حافظے کے دریچوں میں اسی تازگی کے ساتھ محفوظ ہیں، جیسے یہ سب کچھ کل ہی کی بات ہو۔

۔آج جب ہم تعلیمی زوال، فکری انتشار اور سماجی بحرانوں کا شکوہ کرتے ہیں تو حسن علی آفندی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تقدیر سیاسی نعروں، جذباتی خطابت یا وقتی شور سے نہیں بدلتی بلکہ بصیرت افروز قیادت، معیاری تعلیمی اداروں اور مسلسل جدوجہد سے سنورتی ہے۔کراچی اور سندھ کی تاریخ میں اگر ان شخصیات کے نام لکھے جائیں جنہوں نے اس خطے کی علمی شناخت کو دوام بخشا تو خان بہادر حسن علی آفندی کا نام یقیناً سرِفہرست ہوگا۔ انہوں نے اینٹ اور پتھر کی ایک عمارت نہیں بنائی بلکہ علم کا ایسا چراغ روشن کیا جس کی روشنی میں قائداعظم محمد علی جناح سمیت لاکھوں طلبہ نے اپنی منزل کا راستہ پایا۔ یہی چراغ ان کا سب سے بڑا قومی سرمایہ، زندہ یادگار اور آنے والی نسلوں کے لیے امید کا روشن استعارہ ہے