تاریخ کا ایک اصول ہے: جو قومیں وقت کی تبدیلی کو سمجھ لیتی ہیں، وہ مستقبل بناتی ہیں، اور جو تبدیلی سے منہ موڑ لیتی ہیں، وہ تاریخ کے حاشیے پر چلی جاتی ہیں۔ آج دنیا ایک نئے انقلاب سے گزر رہی ہے۔ یہ انقلاب نہ بندوقوں کا ہے، نہ سرحدوں کا اور نہ ہی صرف معیشت کا؛ یہ علم، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا انقلاب ہے۔
جب دنیا کے بڑے ممالک مصنوعی ذہانت کو قومی ترجیح بنا رہے ہیں، تب بھی ہمارے کئی اسکولوں میں کمپیوٹر لیبارٹریاں ایک خواب بنی ہوئی ہیں۔ جب عالمی معیشت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہی ہے، تب بھی ہمارے بہت سے نوجوان بنیادی ڈیجیٹل مہارتوں سے محروم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دنیا آگے بڑھ رہی ہے تو کیا سندھ بھی اس سفر میں شامل ہے یا صرف تماشائی بنا ہوا ہے؟
سندھ کے پاس قدرتی وسائل، شاندار تاریخ، ثقافت اور سب سے بڑھ کر نوجوان آبادی موجود ہے۔ لیکن جدید دنیا میں صرف یہ چیزیں ترقی کی ضمانت نہیں رہیں۔ آج کے دور میں اصل طاقت علم، تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے ممالک، جو وسائل کے لحاظ سے غریب تھے، آج دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، لیکن مواقع کی کمی ضرور ہے۔ اگر ایک نوجوان کو معیاری انٹرنیٹ، جدید تعلیم اور تکنیکی تربیت فراہم کی جائے تو وہ دنیا کے کسی بھی نوجوان سے کم نہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری پالیسیوں میں اب تک ڈیجیٹل معیشت کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو وقت کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خدشات بھی موجود ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ AI انسانوں سے روزگار چھین لے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی ہمیشہ کچھ پرانے کام ختم کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کے لیے تیاری کا ہے۔ جو معاشرے اپنے لوگوں کو نئی مہارتیں سکھائیں گے، وہ فائدہ اٹھائیں گے، اور جو ایسا نہیں کریں گے، وہ نقصان اٹھائیں گے۔
سندھ کے دیہات میں رہنے والے ایک کسان سے لے کر شہروں کے یونیورسٹی طلبہ تک، ہر شخص کی زندگی ڈیجیٹل تبدیلی سے جڑی ہوئی ہے۔ زراعت، صحت، تعلیم، کاروبار اور حکمرانی کے تمام شعبے تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ڈیجیٹل شعور اب عیش و آرام نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم مسئلہ سائبر سیکیورٹی کا بھی ہے۔ جیسے جیسے ہم ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، ویسے ویسے فراڈ، ڈیٹا چوری اور آن لائن جرائم کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل ترقی کا مطلب صرف انٹرنیٹ کی فراہمی نہیں بلکہ لوگوں کو محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل شہریت کی تربیت دینا بھی ہے۔
ہمیں خود سے ایک ایماندارانہ سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہم اپنی آنے والی نسل کو بیسویں صدی کی تعلیم کے ذریعے اکیسویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں؟ اگر جواب "نہیں" ہے تو یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے۔
سندھ کو آج ایک نئی سوچ، نئی حکمت عملی اور نئے عزم کی ضرورت ہے۔ اسکولوں سے لے کر جامعات تک، سرکاری اداروں سے نجی شعبے تک، ہر سطح پر ڈیجیٹل تبدیلی کو ترجیح بنانا ہوگا۔ کیونکہ دنیا کسی کا انتظار نہیں کرتی۔
مستقبل کے دروازے انہی کے لیے کھلتے ہیں جو وقت سے پہلے خود کو تیار کر لیتے ہیں۔ اگر سندھ آج بھی روایتی سوچ اور پرانی ترجیحات میں الجھا رہا تو کل ہمارے حصے میں صرف افسوس آئے گا۔ لیکن اگر ہم علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو اپنا راستہ بنائیں تو سندھ نہ صرف تبدیلی کا حصہ بن سکتا ہے بلکہ اس کی قیادت بھی کر سکتا ہے۔
کیونکہ حقیقت بالکل واضح ہے: اگر سندھ ڈیجیٹل نہ ہوا تو مستقبل ہمارا انتظار نہیں کرے گا۔




