کراچی: میر رضا علی کیس میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ میڈیکل بورڈ نے دورانِ کارروائی ضروری شواہد ریکارڈ کرنے کے ساتھ مختلف نمونے بھی حاصل کرلیے ہیں۔

پروفیسر نسیم احمد کے مطابق میڈیکل بورڈ نے اپنا مقررہ کام مکمل کرلیا ہے اور رپورٹ جلد متعلقہ حکام کو ارسال کردی جائے گی۔ جبران ناصر کے مطابق قبر کشائی کا عمل صبح 11 بج کر 7 منٹ پر شروع ہوا، جس کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ مرحوم کی میت سے مطلوبہ شواہد حاصل کرلیے گئے ہیں جبکہ پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات بھی میڈیکل بورڈ کو مل چکے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی رپورٹ آج شام تک جاری ہونے کا امکان ہے، جبکہ کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد حتمی رپورٹ مرتب کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے خودکشی یا قتل سے متعلق اہم سوالات کے جواب ملنے کی توقع ہے۔ رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوسکے گا کہ زخم خود لگائے گئے یا کسی دوسرے شخص کی جانب سے تشدد کیا گیا۔ اگر قتل ثابت ہوتا ہے تو فرانزک شواہد کی بنیاد پر تشدد کی نوعیت اور ممکنہ طور پر ملوث افراد کی تعداد سے متعلق بھی اہم معلومات سامنے آسکتی ہیں۔

جبران ناصر نے امید ظاہر کی کہ حقائق سامنے آنے کے بعد میر رضا کیس سے متعلق افواہوں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگا۔

دوسری جانب میر رضا علی کے والد نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ شام 6 بجے تک متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیس کے تمام حقائق عوام کے سامنے آجائیں گے۔

میر رضا کے والد نے میڈیکل بورڈ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کی ٹیم اپنی ذمہ داریاں مکمل کرچکی ہے اور اب رپورٹ کا انتظار ہے۔ ان کے مطابق میڈیا کی مسلسل توجہ اور عوامی دباؤ کے باعث کیس میں پیش رفت ممکن ہوئی۔

مبینہ آڈیو پیغام سے متعلق سوال پر میر رضا کے والد نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو کی فرانزک تصدیق سامنے آنے تک اس بارے میں کوئی رائے دینا مناسب نہیں، کیونکہ غیر مصدقہ آڈیو پر بات کرنا درست نہیں ہوگا۔