کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ملک میں نظام کی خامیاں سب کے سامنے ہیں، تاہم ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے نظام کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام "آن مائی ریڈار" میں گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر نئے یا متعدد صوبے بنانے یا قومی حکومت قائم کرنے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو یہ بحث نئی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اصل مسئلہ نئے صوبے ہیں یا بدانتظامی؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نظام کے تین بنیادی حصے ہیں، لیکن نہ قومی سطح پر نظام پر مکمل عمل درآمد کیا گیا، نہ صوبائی سطح پر، جبکہ مقامی حکومتوں کے نظام کو یا تو قائم ہی نہیں ہونے دیا جاتا یا پھر اسے مؤثر انداز میں چلنے نہیں دیا جاتا۔
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام پر مکمل اور دیانتداری سے عمل درآمد کیا جائے اور اس کے باوجود نتائج مثبت نہ آئیں، تب یہ کہا جا سکتا ہے کہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس صورت میں نئے صوبوں سمیت دیگر آئینی اصلاحات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا مستقل حل نظام کو مضبوط، مؤثر اور قابلِ عمل بنانے میں ہے، نہ کہ صرف انتظامی تبدیلیوں میں۔




