کراچی: کراچی پولیس نے گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ (چالان) مکمل کر لی ہے، جس میں مارکیٹ یونین کے عہدیدار تنویر پاستا سمیت پانچ افراد کو مبینہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
تاہم پراسیکیوشن نے پولیس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے تحقیقات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی اور چالان واپس پولیس کو بھیج دیا۔
پولیس کی چار صفحات پر مشتمل رپورٹ، جس کے ساتھ سینکڑوں دستاویزات شامل ہیں، میں پانچ اہم ملزمان کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں یونین صدر تنویر پاستا، نائب صدر حذیفہ عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان اور اس دکان کا مالک نعمت اللہ شامل ہیں جہاں سے مبینہ طور پر آگ شروع ہوئی۔
پراسیکیوشن کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں اور عدالت میں پیش کرنے کے لیے ضروری قانونی شواہد موجود نہیں۔
پراسیکیوشن نے پولیس کو کئی خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں واقعے سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ شامل نہ کرنا، گل پلازہ کے اطراف موجود سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہ کرنا اور عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ نہ کرنا شامل ہے۔
پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق موجودہ تحقیقات نامکمل ہیں، کیونکہ عینی شاہدین کے بیانات اور ڈیجیٹل شواہد کے بغیر کیس عدالت میں مضبوطی سے پیش نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام اعتراضات دور کرکے مزید شواہد اکٹھے کیے جائیں اور مکمل چالان دوبارہ قانونی جائزے کے لیے جمع کرایا جائے۔




